Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تیراہ کے معاملے پر سیاست ہورہی ہے‘،گرینڈ امن جرگے کا مقصد کیا تھا؟

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی زیر نگرانی ضلع خیبر میں اتوار کو گرینڈ امن جرگہ منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پارلیمنٹیرینز اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے۔
جرگے میں تیراہ کے لوگوں کے انخلا سے متعلق وفاق کا بیان مستردکرتے ہوئے کہا گیا کہ تیراہ کے متاثرین رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے بلکہ انہیں جبری طور پر نکالا گیا ہے۔
امن جرگے میں تیراہ آئی ڈی پیز کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اسلام آباد کا رخ کرنے کی تجویز پیش کی گئی جس پر قبائلی اضلاع کے ساتھ مشاورتی جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بار پھر وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’بند کمروں کے فیصلوں سے حالات مزید خراب ہورہے ہیں جو کہ ہمارے لیے قبول نہیں ہیں۔ ایک طرف ہمارے قبائلی قربانیاں دے رہے ہیں اوپر سے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔‘
امن جرگے کا مقصد کیا ہے؟
خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق تیراہ  اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر صوبائی امن جرگہ بلایا گیا۔ تیراہ متاثرین کے خلاف گمراہ گن بیانیہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسی صورت میں قبائلی مشران کے سامنے حقیقت رکھنا ضروری تھا۔
ان کا موقف ہے کہ امن جرگے کی بدولت امن کا مثبت پیغام دیا گیا ہے۔ ان قوتوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ قبائلی عوام مزید کسی نئے تجربے کے متحمل نہیں ہیں۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے وادی تیراہ کے متاثرین  کی سہولت کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اب تک آئی ڈی پیز کی ٹرانسپورٹ اور خوراک پر 92 کروڑ خرچ کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات 
اسلام آباد میں پیر کو وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کی، جس کے بعد سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’وزیراعظم سے ملاقات میں بلوچستان کے افسوسناک واقعے پر اظہار تعزیت کی، دہشتگردی جہاں بھی ہو، ہم ہمیشہ اس کی مذمت کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔‘

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات عہدے کا تقاضہ ہے (فوٹو: پی ٹی آئی ایکس)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم سے صوبے کے بقایاجات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، خیبر پختونخوا کے مالی مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر مشاورت ضروری ہے تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، چار ارب روپے قربانیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات عہدے کا تقاضہ ہے، بحیثیت سیاسی ورکر شاید کبھی بھی ملاقات نہ کرتا، حالات کی سنگینی کے باعث ملاقات کا ہونا ضروری تھا۔
تیراہ کے معاملے پر سیاست ہورہی ہے
سینئیر صحافی محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ تیراہ میں امن و امان کا مسئلہ اتنا گھمبیر نہیں ہے جتنا وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ دونوں کو چاہیے کہ مل کر صورتح کا جائزہ لیں انہوں نے بتایا کہ وفاق کی کوشش ہے کہ تمام تر حالات کی ذمہ داری صوبے پر ڈال دیا جائے جبکہ صوبائی حکومت بھی یہی کررہی ہے۔
’وفاق نے کچھ روز قبل تیراہ سے متعلق بیان دیا کہ صوبائی حکومت چاہے یا نہیں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوگی مگر تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کے بعد بیانیہ بدل دیا۔‘
سینیئر صحافی محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ کل ہونے والے جرگے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ موقف اپنایا کہ تیراہ سے لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ وفاق کا ہے۔

پروفیسر کلیم اللہ کے مطابق صوبائی امن کے جرگے میں امن اور اتحاد کا مظاہرہ ہونا چاہیے (فوٹو: سکرین گریب)

 ’اس وقت دہشت گردی سے بڑی لڑائی سیاسی اختلافات ہیں جو کہ کے پی حکومت اور وفاق کے درمیان لڑی جارہی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے معاملے پر وفاقی حکومت نے صوبے کے ساتھ تعاون نہیں کیا اس لیے وزیراعلی بھی یہ تاثر ددے رہے ہیں کہ وہ وفاق کے کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔
محمود جان بابر کے مطابق وزیراعظم سے سہیل آفریدی کی ملاقات میں اگر کوئی بڑی پیشرفت ہوئی تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت حالات بہتر ہونے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا ہے۔
سیاسی منظرنامے پر گہری نظر رکھنے والے شعبہ سیاسیات کے ریٹائرڈ پروفیسر کلیم اللہ نے موقف اپنایا کہ تیراہ کے مسئلے کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کو ایک پیج پر آنا ہوگا، صوبائی حکومت کا جرگہ کرنا محض ایک سیاسی اقدام ہے اس کا وفاقی اداروں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ امن و امان کے لیے وفاق سے تعاون بہت ضروری ہے بصورت دیگر حالات سدھرنے کے بجائے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
پروفیسر کلیم اللہ کے مطابق صوبائی امن کے جرگے میں امن اور اتحاد کا مظاہرہ ہونا چاہیے مگر وزیراعلی کی خطاب میں وفاق کے خلاف تقریر کی گئی۔ ان تقاریر سے ٹکراؤ کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے جو کہ صوبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے نزدیک تیراہ کے مسئلے کا کیا حل ہے؟

تیراہ میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کی وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے (فوٹو: رضی طاہر ایکس)

وادی تیراہ کے معاملے پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے گفتگو کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے وفاق کے تعاون کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے معاملے پر غلط بیانی کرنے کے بجائے اگر صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ بیٹھ جائے تو مسائل حل ہونے کی طرف جائیں گے۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد کی رائے ہے کہ وزیراعلیٰ سیاسی تحریک کے بجائے صوبے کے عوامی مسائل کے لیے تحریک شروع کریں جس میں اپوزیشن کی جماعتیں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوجائیں گی۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں وزیراعلیٰ نے سیاسی گفتگو نہ کرکے ایک اچھے بچے کا کردار ادا کیا ہے اگر یہی رویہ رہا تو صوبے کے مسائل حل ہوجائیں گے ۔
واضح رہے کہ وادی تیراہ میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کی وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک 7 ہزار سے زائد خاندان کی رجسٹریشن ہوچکی ہے جبکہ مزید آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن جاری ہے۔

 

شیئر: