خود ساختہ’ ابلیس‘ کو کیا سزا ملے گی؟

گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے (فوٹو: المرصد)
 سعودی عرب میں خود ساختہ’ ابلیس ‘ کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہےکہ اسے کیا سزا ملے گی۔
المرصد ویب سائٹ کے مطابق سعودی لا فیکلٹی کی طالبہ الجوہرة العبدلی کا ٹویٹ ہیش ٹیگ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اس نے (# ھاشتاق_ القانون) کے عنوان سے قانونی سوال اٹھایا اور پھر اس کا جواب بھی دیا ہے۔
 الجوہرة العبدلی کا سوال یہ تھا کہ خود کو ابلیس کہنے والے کے لیے سعودی قانون میں کیا سزا مقرر ہے؟

سعودی لا فیکلٹی کی طالبہ الجوہرة العبدلی کا ٹویٹ ہیش ٹیگ کی شکل اختیار کرگیا ہے (فوٹو: المرصد)

 سعودی طالبہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ’خود کو ابلیس کہنے والے نے دو خلاف ورزیاں کی ہیں۔ پہلی خلاف ورزی دین کا مذاق اڑانے کی ہے اور دوسری خلاف ورزی ڈرائیونگ کے دوران وڈیو بنانے کی ہے۔‘
’مشہور ہونے کے لیے یہ دعویٰ کہ وہ ابلیس ہے۔ انفارمیشن کرائمزقانون کی دفعہ 6 کے مطابق مذہب کا مذاق اڑانے کے دائرے میں آتا ہے۔ اس پر پانچ برس تک قید اور 30 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ پہلی خلاف ورزی اور اس کی سزا ہے۔‘
الجوہرةالعبدلی نے مزید کہا ’دوسری خلاف ورزی ڈرائیونگ کے دوران ویڈیو بنانے کی ہے۔ اس پر چوبیس گھنٹے قید اور تین سو ریال تک جرمانے کی سزا ہوگی۔‘
یاد رہے کہ سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے گذشتہ روز ٹک ٹاک ایپلی کیشن استعمال کرکے وڈیو بنانے والے ایک نوجوان کو گرفتار کیا تھا۔ وڈیو میں نوجوان نے عجیب و غریب میک اپ کرکے اپنی وڈیو بنائی تھی اور خود کو ابلیس قرار دیا تھا اور ابلیس کی زبان بھی استعمال کی تھی۔
 ٹک ٹاک پر مقامی نوجوان کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

شیئر:

متعلقہ خبریں