صبا قمر کیخلاف پولیس یونیفارم کے استعمال پر مقدمے کی درخواست
جمعرات 25 دسمبر 2025 12:56
درخواست گزار نے صبا قمر نے پولیس مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے (فوٹو: انسٹاگرام)
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ صبا قمر ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں تاہم اس بار وجہ ان کا کوئی نیا ڈرامہ یا فلم نہیں بلکہ ان کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست ہے۔
شوبز میگزین ’دیوا‘ کے مطابق لاہور کی سیشن کورٹ میں صبا قمر کے خلاف ایڈووکیٹ آفتاب باجوا کے توسط سے وسیم ظفر نے درخواست جمع کرائی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری اجازت کے بغیر پولیس کی وردی زیب تن کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو اجازت کے بغیر پولیس کی وردی پہننے یا پولیس افسر کا بیج استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
درخواست گزار کے مطابق صبا قمر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں انہیں ڈریسنگ روم میں ایس پی کی وردی پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔
درخواست میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 171 (سرکاری ملازم کی وردی یا نشان دھوکہ دہی کے ارادے سے استعمال کرنا) اور دفعہ 419 (بھیس بدل کر دھوکہ دینے کی سزا، جس کی مدت سات سال قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں) کے تحت کارروائی مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج الیاس ریحان نے بدھ کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے انارکلی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ 14 دسمبر تک اس معاملے پر رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، جس کے بعد عدالت پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 41 سالہ اداکارہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے پنجاب پولیس کے ایس پی کی وردی پہن رکھی تھی۔
اس معاملے پر اداکارہ نے راحیل راؤ کی ایک انسٹاگرام پوسٹ کو ری شیئر کیا، جس میں انہوں نے اداکارہ کا بھرپور دفاع کیا تھا۔
راحیل راؤ نے اپنے بیان میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’اگر کوئی اداکار پولیس افسر کا کردار ادا کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ توقع کی جائے کہ وہ دلہن کے لباس یا لان کے سوٹ میں نظر آئے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کردار ہمیشہ کہانی اور سکرپٹ کے مطابق لباس پہنتے ہیں، نہ کہ کسی کی من گھڑت سوچ کے تحت۔‘
راحیل راؤ کے اس بیان پر صبا قمر نے بھی خاموش رہنے کے بجائے مزاحیہ ردعمل دیا۔ اداکارہ نے انسٹاگرام سٹوری پر لکھا کہ ’اوہ خدایا! لگتا ہے آج کل میں بہت زیادہ مشہور ہو گئی ہوں۔‘
