Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین کا امریکہ پر بہتر ہوتے چین، انڈیا تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام

لِن جیان نے کہا کہ چین انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو سٹریٹجک اور طویل المدتی تناظر میں دیکھتا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
چین نے جمعرات کے روز امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ چین، انڈیا تعلقات میں بہتری کو روکنے کی کوشش کے تحت چین کی دفاعی پالیسی کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا چین متنازع سرحدی علاقوں پر انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں کمی کا فائدہ اٹھا کر امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کو مزید گہرا ہونے سے روکنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
لِن جیان نے کہا کہ چین انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو سٹریٹجک اور طویل المدتی تناظر میں دیکھتا ہے، اور سرحدی مسئلہ چین اور انڈیا کے درمیان دوطرفہ معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہم کسی بھی ملک کی جانب سے اس معاملے پر رائے دینے کی مخالفت کرتے ہیں۔‘
بدھ  کو پینٹاگون نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ چین ممکنہ طور پر کشیدگی میں کمی سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور امریکہ انڈیا تعلقات کو مزید گہرا ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چین لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر باقی ماندہ تعطل کے مقامات سے فوجی انخلا کو استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
 رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ چین نے ممکنہ طور پر بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا اور دیگر خطوں سمیت کئی ممالک میں فوجی اڈوں کے امکانات کا جائزہ لیا ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024 کا معاہدہ ممکنہ طور پر چین کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان گہرے سٹریٹجک اتحاد کو روکنا ہے۔

 

شیئر: