Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مائنس ون فارمولا؟ اجمل جامی کا کالم

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا کیسز کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
سیاست عجب شے ہے، سلجھتی گتھی کب الجھ جائے اور الجھی ڈور کب سیدھی ہو جائے، فقط چند لمحوں کی کہانی ثابت ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ چند لمحے سالہا سال نصیب نہیں ہوتے۔ تازہ منظر نامہ ہی دیکھ لیجیے، الجھی ڈوریں مزید گنجلک کا شکار ہوتے ہوتے ڈیڈ اینڈ تک جا پہنچیں اور آگے اندھیر نگری دکھ رہی تھی۔ اچانک وزیراعظم مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں اور کل شام تحریک تحفظ آئین پاکستان اسے قبول کرتے ہوئے کچھ بنیادی مطالبات سامنے رکھتی ہے۔ اس بیچ البتہ تحریک انصاف کی دستیاب قیادت تذبذب کا شکار دکھائی دی۔ اسی بیچ ہمیں فواد چوہدری اینڈ کمپنی بھی اپنے تئیں حرکت میں دکھائی دی۔ یہ کس مشن پر ہیں؟ انہیں کس کی آشیر باد حاصل ہے؟ کیا اڈیالہ انہیں شرف قبولیت بخشے گا؟ یہ کہانی پھر سہی۔ فی الحال دھند کا شکار ملکی سیاست کا بحثیت مجموعی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ابھی کل رات ہی اپوزیشن اتحاد کے مرکزی رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے ایک پروگرام میں انتہائی اہم بات کی، وہ فرما رہے تھے کہ حکومت سے مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا کیسز کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں، مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کی گفتگو کو ہم نے سنجیدگی سے لیا ہے اور پی ٹی آئی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو مشاروتی عمل کا حصہ بنا رہے ہیں۔ سرکار سنجیدہ ہے تو اچکزئی پہلے ہی کہہ چکے کہ وہ عمران خان کے دستخط لینے کی ذمہ داری نبھانے کو تیار ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ اچکزئی صاحب کی قیادت میں اتحاد کے چند جید رہنما سوا پانچ گھنٹے سر جوڑے بیٹھے رہے، ان کی رائے یہی تھی کہ بات چیت کو موقع ملنا چاہیے۔ کچھ بنیادی مطالبات پر مبنی اعلامیہ تیار کیا جاتا ہے، علیمہ خانم سے رابطے کی ذمہ داری حسین اخونزادہ لیتے ہیں، اس بیٹھک کے دوران ٹیلی فونک رابطہ ہوتا ہے۔ پھر ملاقات۔ حالانکہ اس موقع پر خیبر پختونخوا سے ایک پرانے سیاستدان اور سابق اہم عہدیدار نے علیمہ بی بی سے ان کی رائے لینے کی مخالفت کی۔ بہرحال، ان روابط اور ملاقاتوں میں متفقہ طور پر کپتان اور ان کی رہائی کا نکتہ مطالبات سے بوجوہ ہذف کیا جاتا ہے۔ ذمہ دار حلقوں سے بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس کی دو وجوہات تھیں، ایک یہ کہ ڈیل یا این آراو کی مانگ کرنے کا تاثر نہ جائے اور دوسرا یہ کہ اس ایک شرط کے ساتھ حکومت بات چیت کر ہی نہیں سکے گی لہذا ابھی پہلے مرحلے میں اس مدعے کی بجائے بنیادی آئینی اور جمہوری مطالبات سامنے رکھے جائیں۔

محمود خان اچکزئی کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے چند جید رہنما سوا پانچ گھنٹے سر جوڑے بیٹھے رہے۔ (فائل فوٹو: تحریک تحفظ آئین پاکستان ایکس)

صاف شفاف انتخابات ہوں یا متفقہ طور پر نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی، آئین کی بالادستی ہو یا سویلین اداروں کی ساکھ کا احیا، کون ذی شعور ہو گا جو اس سب کی خواہش نہ رکھتا ہو؟ اگر انہی بنیادی نکات کی بنیاد پر میرے ملک کے سیاستدان مل بیٹھیں تو حرج ہی کیا ہے؟ بسم اللہ حضور! مل بیٹھیں، عوام اکتا چکے، تھک چکے، تنگ آ چکے، انہیں سیاسی استحکام سے بے پناہ سروکار ہے۔
یہ چاہتے ہیں کہ معیشت کا پہیہ چلے، انہیں معلوم ہے کہ یہ پہیہ اسی صورت دوڑے گا جب سیاسی استحکام نصیب ہو گا۔ سیاسی ایندھن بنے جذباتی ورکرز اور سپورٹرز بھی اب ایک ہی سوال پوچھتے ہیں؛ ’صورتحال کب بہتر ہونا شروع ہوگی؟‘
بھلا ڈیڈلاک سے بھی کبھی حل نکلے ہیں؟ مائنس ون کی تدبیریں بھی کبھی کارگر ہوئی ہیں؟ میل ملاقاتوں پر پابندیاں بھی کبھی مطلوبہ نتائج برآمد کر پائی ہیں؟ بات چیت نہ کرنے کی رٹ تحکم برقرار رکھ پائی ہے؟ ضد اور انا پرستی فقط تباہی و بربادی لایا کرتی ہیں اور کچھ نہیں۔ حکمت، معاملہ فہمی، تدبر اور دور اندیشی حل کی گارنٹی نکال سکتے ہیں ہٹ دھرمی نہیں۔ اور رہنما تو ہوتا ہی وہی ہے جو واقعی تاریک رستوں سے چلتا ہوا منزل تک لے جائے۔ رہنمائی اور کسے کہتے ہیں؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے گا کہ کیا ہمارے تمام رہنما واقعی ہماری رہنمائی کر پا رہے ہیں؟ قوی یقین ہے کہ آپ کا جواب نفی میں ہو گا۔

عوام چاہتے ہیں کہ معیشت کا پہیہ چلے، انہیں معلوم ہے کہ یہ پہیہ اسی صورت دوڑے گا جب سیاسی استحکام نصیب ہو گا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

خاکسار جانتے بوجھتے ہوئے کہ اس راہ میں رکاوٹیں ہیں کیا کیا، ذاتی طور پر اس خوش فہمی میں مبتلا رہنا چاہتا ہے کہ حالیہ پیش رفت مثبت ہے اور بات چیت کے دروازے کھلنے سے جمود ٹوٹے گا۔ اس کا آغاز اگلے روز خواجہ رفیق کی برسی کے موقع پر ببانگ دہل دیکھنے اور سننے کو ملا۔ خود جناب خواجہ سعد رفیق کا خطاب انتہائی جاندار اور مدبرانہ تھا۔ وہ میاں نواز شریف سے بھی بڑا بن کر کردار ادا کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔ یہاں جناب حامد میر مخاطب تھے، عمدہ دلائل کے ساتھ ماضی یاد دلا رہے تھے، کچھ سیکھ لینے کی گزارش کر رہے تھے، کچھ تلخ واقعات سنا کر رہنماوں کے ضمیر جھنجوڑ رہے تھے، اور پھر جناب مجیب الرحمان شامی مخاطب ہوئے، اور ایک ایسا مدلل نکتہ اٹھایا کہ جس نے تمام دیکھنے سننے والوں کو دم بخود کر دیا۔ فرمایا: جس کو پاکستان جتنا عزیز ہے وہ اتنی بڑی قربانی کیوں نہیں دیتا؟ اور پھر مجھے بے اختیار عباس تابش یاد آئے؛
پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے

 

شیئر: