Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی بینکوں میں کیش کی کمی نہیں: وزیر خزانہ

مالیاتی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں اس کی تصدیق کی ہے.(فوٹو سوشل میڈیا)
سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نےکہا ہے کہ سعودی بینکوں میں کیش کی کمی نہیں ہے. بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں اس کی تصدیق کی ہے.
وزیر خزانہ نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات  کے حوالے سے العربیہ چینل سے گفتگو میں کہا کہ بینکوں میں کیش کا کوئی مسئلہ نہیں.
’سعودی عرب نجی اداروں کی تمام ضروریات پوری کرنے اور سامان درآمد کرنے کے لیے انہیں کیش مہیا کرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہے‘.
محمد الجدعان نے مزید کہا کہ سعودی حکومت سرکاری قرضوں کے معاملات نمٹانے کے سلسلے میں نجی اداروں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرے گی. اس حوالے سے سعودی حکومت بے حد سنجیدہ ہے.
وزیر خزنہ کا کہنا تھا کہ حکومت قرضے کی لاگت اور منڈی کی صورتحال کے مطابق داخلی اور خارجی بانڈز کے اجرا کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رکھے گی-
سعودی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ قرضے کی لاگت کو کنٹرول کیے رکھنا بے حد اہم ہے. وجہ یہ ہے کہ قرضے کی لاگت بڑھنے سے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان ہوگا مستقبل میں قرضے کی لاگت بھی بڑھ جائے گی. یہ قومی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے.

وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی مالی اور اقتصادی پوزیشن مضبوط ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اگرسرکاری قرضے کی لاگت بڑھ گئی تو اس کا نقصان کمپنیوں کو بھی ہوگا اور عوام بھی غیر منقولہ جائدادوں اور اشیائے صرف کے قرضوں کے سلسلے میں مشکل میں آجائیں گے.
قبل ازیں سعودی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی مالی اور اقتصادی پوزیشن بہت مضبوط ہے. محفوظ اثاثے موجود ہیں. بڑے پیمانے پر اندرون و بیرون ملک سرمایہ کاری کیے ہوئے  ہیں. گھبرانے کی کوئی بات نہیں.

شیئر: