Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عالمی شہرت پانے والے سعودی عرب کے تاریخی نوادرات

کانسی کے دو مجسمے بھی نوادر میں شامل ہیں جو الفاؤ قریے سے ملے ہیں- (فوٹو،ایس پی اے)
سعودی عرب کے کئی تاریخی نوادرت  نے  دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت پائی- ماہرین آثار قدیمہ نے تحقیقی مقالوں اور تاریخی آثار سے متعلق رسالوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔
سعودی خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق سعودی عرب کے تاریخی نوادرات خوبصورت ڈیزائن، اعلیٰ درجے کی سنگ تراشی اور تاریخی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھر میں شہرت کی منزلیں طے کرتے جا رہے ہیں-
تاریخی نوادر میں سرفہرست ’رجل المعاناۃ‘  (مصیبت زدہ شخص) کا مجسمہ ہے- یہ کئی عالمی عجائب گھروں میں پیش کیا جاچکا ہے- سعودی عرب اپنے نادر روزگار تاریخی قطعات کی نمائش ’جزیرہ عرب میں تجارت کی شاہراہیں‘ کے عنوان سے  منعقد کررہا ہے۔

’مصیبت زدہ شخص‘ کا مجمسہ دنیا بھر میں سنگ تراشی کا نادر نمونہ مانا جاتا ہے- (فوٹو:  ایس پی اے)

مصیبت زدہ شخص کا مجسمہ ریتیلے پتھر کا بنا ہوا ہے- یہ حائل سے 200 کلو میٹر جنوب میں واقع الکھفۃ قصبے کے قریب دریافت ہوا تھا- اس کی عمر 6 ہزار برس سے کہیں زیادہ قدیم ہے-  ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ اپنی تراش خراش کے حوالے سے انتائی اہم ہے-
اس کی گہری آّنکھوں اور منہ کی شکل رنج و غم کا اظہار حقیقی انداز سے کر رہے ہیں- اس مجسمے میں ہاتھ دل کی طرف اٹھا ہوا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مجسمہ ساز نے اس شخص کی مصیبت کے اظہار کے لیے یہ طریقہ اپنایا تھا-
’مصیبت زدہ شخص‘ کا مجمسہ دنیا بھر میں سنگ تراشی کا نادر نمونہ مانا جاتا ہے- یہ خطے کی بڑی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے-
سعودی ماہر آثار ڈاکٹرسعد الراشد کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ 4 ہزار قبل مسیح پرانا ہے -  یہ ایک طرح سے سلامتی اور چاہت کے جذبات کا نمائندہ نقش ہے-
الراشد نے بتایا کہ یہ مجسمہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنےکے لیے اعلی حکام کی منظوری لینا ہوتی ہے- بین الاقوامی دستاویزی پروگرام کے تحت اسے مملکت سے باہر بھیجا جاتا ہے-
سعودی عرب کے مشہور تاریخی نوادر میں ایک اور مجسمہ بھی شامل ہے جسے ’شاھد قبر‘ کہا جاتا ہے- یہ 5 صدی قبل مسیح پرانا ہے-
پتھر پر ایک انسان کاچہرہ بنا ہوا ہے- آرامی زبان میں  ایک اہم شخصیت کا تذکرہ نقش ہے- یہ مجسمہ سعودی عرب کے  معروف علاقے تیما سے ملا  ہے-
ماہرین آثار قدیمہ کا کہناہے کہ 5 صدی قبل مسیح کے دور میں تیما اور جزیرہ عرب کے شمالی اور جنوبی علاقوں کے درمیان ثقافتی رابطے پائے  جاتے تھے- یہ واحد مجسمہ ہے جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے-
مشہور نوادر میں ’سیدۃ الفاؤ‘ (فاؤ کی سردارنی) نامی مجسمہ بھی ہے- کانسی کا یہ مجسمہ ایک صدی قبل مسیح پرانا ہے-  اس میں خاتون کا سر نظر آرہا ہے- یہ مجسمہ الفاؤ قریے سے ملا ہے جو ریاض سے 700 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے-
مجسمے میں خاتون کے سر کے بال کا ڈیزائن ایک صدی قبل مسیح کے دور میں رومن خواتین جیسا ہے-
کانسی کےدو اور مجسمے بھی نوادر میں شامل ہیں- یہ بھی الفاؤ قریے سے ملے ہیں- پہلا بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ ہرقل کا ہے- اس کے دائیں ہاتھ میں ڈنڈا اوربائیں ہاتھ میں شیر کی کھال نظر آرہی ہے- یہ پوری دنیا میں ہرقل کا واحد مجسمہ ہے- اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہرقل چالیس برس کی عمر میں بھی نوجوانوں سے کہیں زیادہ پرجوش ہے-
دوسرا مجسمہ مصری شہنشاہ ھربوقراط کا ہے جو فراعنہ کا دہرا تاج سر پر سجائے ہوئے ہے-
یہ دونوں مجسمے 3 صدی قبل مسیح سے لے کر تین صدی بعد مسیح کے دور کے ہیں- یہ تقریبا 25.3  سینٹی میٹر اونچے ہیں-
مجسموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ الفاؤ کے باشندے نقش نگاری، سنگ تراشی، خطاطی، مجسمہ سازی اور مختلف دستکاریوں میں منفرد صلاحیت کے مالک تھے اور ان شعبوں میں ان کا تمدن اعلی درجے کا تھا-
الفاؤ ہی سے کندۃ سلطنت کی ایک عظیم شخصیت کا نمائندہ مجسمہ ملا ہے- یہ ایک صدی قبل مسیح پرانا ہے-

مجسموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ الفاؤ کے باشندے منفرد صلاحیت کے مالک تھے (فوٹو: ایس پی اے)

یہ مجسمے سے کہیں زیادہ دیوار پر نقش آرٹ کا نمونہ ہے- گھنے بالوں والے ایک شخص کی تصویر دیوار پر کچھ اس انداز سے نقش ہے کہ اس کے پیچھے انگور کی بیلیں نظر آرہی ہیں- مونچھیں ہلکی ہیں اور نیچے کی جانب جھکی ہوئی ہیں-
یہ پہلی صدی قبل مسیح کے دور میں جنوبی جزیرہ عرب میں اسی طرح کی مونچھیں رکھی جاتی تھیں- اس شخصیت کے اطراف دو خادم بھی کھڑے ہوئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ یہ الفاؤ کی عظیم شخصیت تھی-
 

شیئر: