ہارن بجا کر سوئے ہوئے ریچھ کی نیند خراب کرنا جُرم، ناروے کے شہری پر 5 ہزار ڈالر جُرمانہ
سی این این نے علاقے کے گورنر کا ایک بیان شائع کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ اگست کے شروع میں سوالبارڈ جزائر میں پیش آیا۔
انہوں ںے بتایا کہ ایک شخص نے ایک کشتی پر نصب بلند اور تیز آواز والا فوگ ہارن بجایا۔ یہ ہارن عام طور پر سمندری خطرات سے خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کشتی شمالی سوالبارڈ کی تنگ خلیج سے گزر رہی تھی۔
جمعرات کو اس شخص پر 50 ہزار نارویجن کرونر (قریباً 5 ہزار 300 امریکی ڈالر) جُرمانہ عائد کیا گیا۔ سوالبارڈ کے گورنر کا کہنا ہے کہ ’اس عمل سے قطبی ریچھ کو بلاوجہ اور جان بوجھ کر پریشان کیا گیا تھا۔‘
سوالبارڈ کے ماحولیاتی قوانین کے تحت قطبی ریچھوں کو غیر ضروری طور پر پریشان کرنا، انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا یا اُن کا تعاقب کرنا منع ہے۔
سنہ 1973 سے رائج بین الاقوامی قوانین کے تحت قطبی ریچھوں کو محفوظ جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اِن قوانین کے تحت ’جولائی سے فروری تک کسی شخص کو قطبی ریچھ سے 300 میٹر (984 فٹ) سے زیادہ قریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘
تاہم ان جانوروں کے ملاپ کے سیزن کے دوران مارچ سے جون تک یہ فاصلہ بڑھا کر 500 میٹر (1 ہزار 640 فٹ) کر دیا جاتا ہے۔
سوالبارڈ میں قطبی ریچھوں کو مارنا اس وقت سے غیر قانونی ہے جب انہیں محفوظ جانور قرار دیا گیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق ’سوالبارڈ اور بحیرۂ بارینٹس کے علاقے میں قریباً 3 ہزار قطبی ریچھ موجود ہیں۔ بحیرۂ بارینٹس بحرِ منجمد شمالی کا ایک سمندری علاقہ ہے جو ناروے اور رُوس کی علاقائی حدود میں واقع ہے۔‘