Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکول میں طالبات کو ہراساں کرنے کا نوٹس

طالبات نے سوشل میڈیا پر ہراسیت کے واقعات کا ذکر کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایک نجی سکول میں اساتذہ کی طرف سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
لاہور سے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'وزیر اعلٰی نے لاہور کے نجی سکول میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کا نوٹس لے لیا ہے اور اس حوالے سے شہر کے پولیس چیف کو غیر جانبدارانہ انکوائری کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔۔
خیال رہے کہ لاہور کے ایک نجی سکول کی طالبات نے سوشل میڈیا پر اپنے اساتذہ کے خلاف نجی زندگی میں مداخلت اور موبائل فون پر نازیبا پیغامات بھیجنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ابتدائی طور پر صرف ایک طالبہ نے جبکہ بعد ازاں 10 مزید طالبات نے کل چار اساتذہ کے خلاف یہ الزامات عائد کیے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وہ مواد بھی شیئر کیا جو مبینہ طور پر اساتذہ نے بھیجا تھا۔
سکول انتظامیہ نے اپنے ایک مختصر بیان میں طالبات کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ چاروں اساتذہ کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'حال ہی میں لاہور کے دو نجی تعلیمی اداروں میں طالبات اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کا سنجیدہ نوٹس لیا گیا ہے اور اس حوالے سے ہماری وزارت کے متعلقہ حکام کو الرٹ بھی کر دیا گیا ہے کہ معاملے کی چھان بین کریں۔'
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ دوسرے تعلیمی ادارے میں کس قسم کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: