Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انڈیا بلوچستان میں سالانہ 500 ملین ڈالرخرچ کر رہا ہے‘

سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری بی آر اے اور براس نے قبول کی ہے۔ فوٹو اے ایف پی
بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز پر ایک اور حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔ مکران ڈویژن میں چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ 
گزشتہ روز جمعرات کو مکران ڈویژن کے ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ کے قریب شدت پسند حملے میں سات ایف سی اہلکاروں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا تھا۔ 
وزیرداخلہ بلوچستان ضیاءاللہ لانگو نے آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک دہشتگردوں کے قدم جائیں گے ان کا پیچھا کرکے عبرتناک انجام تک پہنچائیں گے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کروانے کے لیے سالانہ پانچ سو ملین ڈالر (80 ارب روپے سے زائد) رقم خرچ کر رہا ہے۔ ‘
تربت لیویز کے مطابق جمعہ کی صبح مکران ڈویژن کے ضلع کیچ میں ضلعی ہیڈ کوارٹرتربت سے تقریباً 70 کلومیٹر دور گور کوپ کے پہاڑی مقام پر گھات لگائے نامعلوم افراد نے ایف سی 147ونگ کے قافلے کو نشانہ بنایا۔
تربت لیویز کے مطابق حملہ آوروں نے راکٹ کے گولے داغنے کے علاوہ چھوٹے ہتھیاروں سے بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایف سی کا ایک اہلکار لانس نائیک وسیم ہلاک جبکہ حوالدار سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔
جبکہ جمعرات کو کیچ سے ملحقہ گوادر کے علاقے اورماڑہ میں شدت پسند حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ حب میں ایف سی آواران ملیشیا کے ہیڈکوارٹر میں ادا کی گئی ہے جس میں اعلیٰ سرکاری و فوجی افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو سلامی بھی پیش کی گئی۔

بلوچستان میں چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر دو حملے ہوئے۔ فوٹو اردو نیوز

ہلاک ہونے والوں میں سے چار کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقوں لیہ، ڈی جی خان، چکوال اور میانوالی سے تھا، جبکہ دو کا تعلق بلوچستان کے ضلع سبی اور پشین سے تھا۔ باقی آٹھ افرا د کا تعلق خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کوہاٹ اور بنوں سے تھا۔ ان تمام کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے ہیں۔
گوادر کی ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے کے فوری بعد مکران کوسٹل ہائی وے کو ہر قسم کی آمدروفت کے لیے بند کر کے آپریشن شروع کردیا گیا جو جمعہ کو بھی جاری رہا۔
آپریشن میں پاک فوج، پاک بحریہ، کوسٹ گارڈ، ایف سی، پولیس کے انسداد دہشتگردی محکمہ اور لیویز کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی لی جا رہی ہے ۔
آپریشن میں شدت پسند تنظیم کے کئی ارکان کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں تاہم وزیرداخلہ بلوچستان ضیاءلانگو نے کوئٹہ میں امن وامان سے متعلق اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں بتایا کہ آپریشن ابھی جاری ہے اس لیے بعد میں تفصیل دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی ذمہ داری ’براس‘ نامی ایک دہشت گرد تنظیم نے قبول کی ہے۔ 

وزیر داخلہ کے مطابق انڈیا دہشتگردوں کی فنڈنگ کرتا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

بلوچستان کے جنوبی حصے مکران میں پے در پے شدت پسند حملوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مکران ڈویژن کو گوادر کی وجہ سے زیادہ ہدف بنایا جارہا ہے تاکہ گوادر پورٹ پر جاری کام متاثر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ مکران کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی کو ناکام بنایا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے ایک بار پھر ہمسایہ ملک بھارت پر بلوچستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’ایک ہی دشمن ہے، ماسٹر مائنڈ بھی ایک ہے، سپانسر بھی اس کو ایک ہی ملک کر رہا ہے تو ظاہر ہے باتیں وہیں سے شروع ہوں گی۔‘
’انٹرنیشنل کمیونٹی کو بھی پتہ ہے کہ پاکستان میں صرف دوچار دہشتگرد کارروائیاں نہیں کر رہے بلکہ اس کے پیچھے ایک ملک ہے جو فنانس بھی کر رہا ہے، جو تربیت بھی دے رہا ہے جو ان کو پناہ بھی دے رہا ہے۔‘
ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران کوئی فرقہ وارانہ دہشتگردی نہیں ہوئی ہے۔
’2014ء کے بعد دہشتگردی کا گراف بھی بہت تیزی سے نیچے آیا ہے۔ یہ کامیابی حکومت کے اقدامات، سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کے نتیجے میں ملی ہے۔‘ 

مکران ڈویژن میں پے در پے کئی شدت پسند حملے ہو چکے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

ضیاءلانگو کا کہنا تھا کہ ’حکومت ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ تک کا انتظار نہیں کرتی بلکہ بروقت اقدامات اٹھاتی ہے، مکران ہائی وے پر اسی مقام پر اس سے پہلے بھی دو واقعات ہوچکے ہیں جس کے بعد وہاں ایف سی تعینات کردی گئی تھی مگر ہم جس رفتار سے سکیورٹی اقدامات اٹھاتے ہیں دشمن بھی اسی رفتار سے چلتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان بہت بڑا خطہ ہے دو ملکوں کی سرحدیں لگتی ہیں، ایران کی بھی 700 کلومیٹر سرحد لگتی ہے، اس لیے سارے علاقے کی نگرانی مشکل ہوتی ہے، مگر جہاں دہشت گرد کارروائی ہوگی وہاں ان کے پیچھے جائیں گے۔‘

شیئر: