Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انڈیا چین سرحدی تنازع بڑی لڑائی کا سبب بن سکتا ہے‘

چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں انڈین کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ فوٹو اے ایف پی
انڈیا کے اعلیٰ عسکری کمانڈر نے کہا ہے کہ مغربی ہمالیہ میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع ایک بڑی لڑائی کا سبب بن سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’روئٹرز’ کے مطابق انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت نے کہا ہے کہ مشرقی لداخ کے مقام پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر صورت حال شدت اختیار کر گئی ہے۔
واضح رہے کہ ہمالیہ کی متنازع سرحد پر گذشتہ کئی ماہ سے ہزاروں کی تعداد میں انڈیا اور چین کی افواج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ اس دوران دونوں افواج کی جانب سے جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں جس میں انڈیا کے کئی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
انڈیا کے چیف آف ڈیفنس بپن راوت نے آن لائن خطاب میں کہا کہ انڈیا لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال اور سرحد پر جاری کشیدگی کے تناظر میں بلا اشتعال فوجی کارروائی سے ایک بڑی لڑائی چھڑ سکتی ہے۔
رواں سال جون میں انڈیا کے زیر انتظام علاقے لداخ کی وادی گلوان میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں انڈین کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک نے اضافی فوج تعینات کر دی تھی۔
دونوں ممالک نے عسکری اور سفارتی چینلز بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی  کوشش کی ہے تاہم کوئی پیش رفت واقع نہیں ہو سکی۔
روئٹرز کے مطابق جمعے کے روز اعلیٰ انڈین اور چینی فوجی کمانڈرز کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں راؤنڈ متوقع تھا۔ انڈین عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران لداخ میں متنازع پینگونگ جھیل کے مقام پر سے فوجیں پیچھے ہٹانے کی بھی چینی تجویز پر غور کیا جائے گا۔

شیئر: