Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تہران بات کرنا چاہے تو فون کر سکتا ہے: ٹرمپ، ایرانی وزیر خارجہ ماسکو پہنچ گئے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو سلطنت عمان کے فرمانروا سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی تھی (فوٹو: ایرانی وزارت خارجہ)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے بات کرنا چاہتا ہے تو ٹیلی فون کال کر سکتا ہے جبکہ ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ’ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کو معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنی چاہیے۔
اس سے قبل سنیچر کو اس وقت امن کی بحالی کی کوششیں معدوم ہوتی دیکھی گئیں جب صدر ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کا اسلام آباد کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں پاکستان اور عمان کے درمیان سفر کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کی جانب ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس عراقچی پیر کو سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ان کی ملاقات متوقع ہے۔
علاوہ ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز پر دی سنڈے بریفنگ میں یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا پھر کال کر سکتے ہیں، ہمارے پاس اچھی اور محفوظ لائنز موجود ہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ معاہدے میں کیا شامل ہونا ہے، یہ بہت سادہ بات ہے۔ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے، دوسری صورت میں ملاقات کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘
اتوار کو امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اور معاملے کی معلومات رکھنے والے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی تجویز بھجوائی اوراس کے ساتھ ہی مذاکرات کے مرحلے کو ملتوی کیا گیا۔
ایکسیوس کے نمائندے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کو ایران کے بارے میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کریں گے جہاں موجودہ تعطل اور جنگ سے متعلق اگلے ممکنہ آپشنز پر بات چیت متوقع ہے۔‘
امریکہ کے محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے رپورٹ سے متعلق موقف جاننے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ایران طویل عرصے سے واشنگٹن سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق اس کے حق کو تسلیم کرے اور موقف ہے کہ وہ صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی طاقتوں کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے۔
اگرچہ 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی جنگ بندی کے ذریعے رک چکی ہے جس میں توسیع بھی کی جا چکی ہے تاہم جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق کوئی معاہدہ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔
اس جنگ کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ عالمی معشیت کو بھی بہت دھچکا لگا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے اور تیل مصنوعات کی قیمتیں بہت تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔

شیئر: