Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مذاکرات میں تعطل کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایرانی وزیر خارجہ ماسکو پہنچ گئے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو سلطنت عمان کے فرمانروا سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی تھی (فوٹو: ایرانی وزارت خارجہ)
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ سٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا تاہم امن معاہدے کی کچھ امیدیں برقرار رہنے کے باعث یہ اضافہ محدود رہا۔
امریکہ اور ایران آٹھ ہفتے سے جاری جنگ کے خاتمے کے قریب ابھی تک نہیں پہنچ سکے۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے بات کرنا چاہتا ہے تو ٹیلی فون کال کر سکتا ہے جبکہ ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ’ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔‘
تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کو معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنی چاہیے۔
اس سے قبل سنیچر کو اس وقت امن کی بحالی کی کوششیں معدوم ہوتی دیکھی گئیں جب صدر ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کا اسلام آباد کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں پاکستان اور عمان کے درمیان سفر کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کی جانب ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس عراقچی پیر کو سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ان کی ملاقات متوقع ہے۔
علاوہ ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز پر دی سنڈے بریفنگ میں یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا پھر کال کر سکتے ہیں، ہمارے پاس اچھی اور محفوظ لائنز موجود ہیں۔‘

عباس عراقچی 24 اپریل کو اسلام آباد پہنچے تھے اور اگلے روز عمان روانہ ہو گئے تھے (فوٹو: وزارت خارجہ)

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ معاہدے میں کیا شامل ہونا ہے، یہ بہت سادہ بات ہے۔ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے، دوسری صورت میں ملاقات کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘
اتوار کو امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اور معاملے کی معلومات رکھنے والے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی تجویز بھجوائی اوراس کے ساتھ ہی مذاکرات کے مرحلے کو ملتوی کیا گیا۔
ایکسیوس کے نمائندے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کو ایران کے بارے میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کریں گے جہاں موجودہ تعطل اور جنگ سے متعلق اگلے ممکنہ آپشنز پر بات چیت متوقع ہے۔‘
امریکہ کے محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے رپورٹ سے متعلق موقف جاننے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ایران طویل عرصے سے واشنگٹن سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق اس کے حق کو تسلیم کرے اور موقف ہے کہ وہ صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی طاقتوں کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے۔

صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ملک کے اندر سے بھی دباؤ کا سامنا ہے: (فوٹو: روئٹرز)

اگرچہ 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی جنگ بندی کے ذریعے رک چکی ہے جس میں توسیع بھی کی جا چکی ہے تاہم جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق کوئی معاہدہ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔
اس جنگ کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ عالمی معشیت کو بھی بہت دھچکا لگا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے اور تیل مصنوعات کی قیمتیں بہت تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونی دباؤ

صدر ٹرمپ کو ملک کے اندر اس بھی غیرمقبول جنگ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، اگرچہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران عسکری طور پر کمزور ہوا ہے لیکن جہاز رانی کو روکنے کی صلاحیت سے ایرانی قیادت کو بات چیت میں فائدہ ہوا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش بہت اہمیت کی حامل ہے اور ایران بڑی حد تک ایسا کرنے میں کامیاب رہا ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے جبکہ دوسرا تعطل کا شکار ہوا۔

شیئر: