Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوکرین کی امداد روکنے کے باوجود عالمی سطح پر فوجی اخراجات میں 2 اعشاریہ 9 فیصد اضافہ

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چار سال سے جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تنازعات سے متعلق ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق عالمی فوجی اخراجات 2025 میں دو اعشاریہ 9 فیصد بڑھ گئے، اگرچہ امریکہ میں یہ اخراجات سات اعشاریہ پانچ فیصد کم ہوئے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے نئی مالی فوجی امداد روک دی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو شائع ہونے والے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں مجموعی فوجی اخراجات بڑھ کر دو اعشاریہ 89  ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ اضافہ مسلسل 11ویں سال دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مجموعی ملکی پیداوار کے مقابلے میں فوجی اخراجات کا تناسب بڑھ کر دو اعشاریہ پانچ  فیصد ہو گیا جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ اونچی سطح پر ہے۔
یہ اعداد و شمار سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں فراہم کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بحرانوں کے دائرہ کار اور کئی ممالک کے طویل مدتی فوجی اخراجات کے اہداف کو دیکھتے ہوئے، یہ اضافہ ممکنہ طور پر 2026 اور اس کے بعد بھی جاری رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ فوجی اخراجات کرنے والے تین ممالک، امریکہ، چین اور روس نے مجموعی طور پر ایک اعشاریہ 48 ٹریلین ڈالر خرچ کیے جو عالمی فوجی اخراجات کا 51 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کے فوجی اخراجات 2025 میں کم ہو کر 954 ارب ڈالر رہ گئے جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یوکرین کے لیے کوئی نئی مالی فوجی امداد منظور نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں امریکہ کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد مجموعی طور پر 127 ارب ڈالر رہی۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ  ’2025 میں امریکی فوجی اخراجات میں یہ کمی غالباً عارضی ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے 2026 کے لیے منظور کردہ اخراجات ایک ٹریلین ڈالر سے بڑھ گئے ہیں جو 2025 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے اور یہ 2027 تک بڑھ کر ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین ڈالر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی فوجی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ یورپ کا 14 فیصد اضافہ ہے جہاں مجموعی اخراجات بڑھ کر 864 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
روس اور یوکرین کے فوجی اخراجات جنگ کے چوتھے سال میں بھی بڑھتے رہے جبکہ نیٹو اتحاد کے یورپی رکن ممالک کے اخراجات میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں وسطی اور مغربی یورپ میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سب سے زیادہ سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے فوجی اخراجات چار اعشاریہ 9 فیصد کم ہو کر 48 اعشاریہ تین ارب ڈالر رہ گئے کیونکہ 2025 میں غزہ میں جنگ کی شدت کم ہو گئی۔ اسی طرح ایران کے اخراجات بھی مسلسل دوسرے سال کم ہوئے اور پانچ اعشاریہ چھ فیصد کمی کے بعد سات اعشاریہ چار ارب ڈالر رہ گئے۔

شیئر: