قدیہ سٹی میں ’اکواریبیا‘ میں آنے والے افراد نے جمعے کو خواتین کے لیے مخصوص پہلے دن کے موقع پر واٹر پارک میں سعودی عرب میں سوئمنگ کے لیے باوقار لباس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
عرب نیوز کے مطابق اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ریاض کے مضافات میں واقع اس واٹر پارک کو جمعرات کو عوام کے لیے کھول دیا گیا اور خواتین کے لیے مخصوص دن کی پہلی جھلک دکھائی گئی جو اب ہر جمعے کو خواتین کے لیے مختص ہوگا۔
اس موقع پر لندن کے برینڈ لنوک کی جانب سے سویم ویئر کی نمائش کروائی گئی جس کے بعد عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیٹرز نے فیشن کے ایسے انتخاب کی اہمیت پر زور دیا جو مسلمان شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس بارے میں 22 برس کی سعودی شہری جوری القنیطہ نے کہا کہ فیشن اب بھی سماجی اور مذہبی شناخت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
جوری القنیطہ کہتی ہیں کہ ’میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ جو ہم چیز پہنیں اس سے ہمارے مسلمان ہونے کے اقدار کی جھلک نمایاں ہوں۔ گزشتہ چند برسوں سے فیشن میں جدت آئی ہے جو کہ اچھی بات ہے لیکن اب بھی پہچان اور حیا کو ہم جیسے بہت سے لوگ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔‘
القنیطہ سمجھتی ہیں کہ ’اکواریبیا‘ میں ڈریس کوڈ نے آنے والے وزیٹرز کے لیے بہت اچھا ماحول پیدا کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ یہ اچھا اور ضروری قدم ہے۔ ڈریس کوڈ سے ایسا ماحول بنتا ہے جس سے لوگوں کو عزت محسوس ہوتی ہے۔ اس سے ہماری ثقافت کے بارے میں شعور ملتا ہے جو ایسے ایونٹس کے لیے بہت ضروری ہے۔‘

عام اور فیملی والے دنوں میں خواتین کے لیے بغیر آستین والے گھٹنوں تک سوئمنگ سوٹ یا برکینی پہننا لازم ہے جبکہ گھٹنوں سے اوپر ڈیزائن والے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہے۔
کچھ خواتین کا کہنا تھا کہ وہ ان باحیا ملبوسات کو مرد و خواتین کے مشترکہ دن پر پہننا پسند نہیں کریں گی۔
وجدان العجمی جن کی عمر 32 سال ہے، کہتی ہیں کہ ’میں نہیں سمجھتی کہ میں ایسے کپڑے عوامی ماحول میں پہن سکوں گی۔ کچھ ڈیزائن میری ذاتی پسند کے حوالے سے بہت تنگ ہیں۔ میں صرف انہیں خواتین کے مخصوص دن پر ہی پہنوں گی لیکن مشترکہ دن پر نہیں۔‘
لنوک کی شریک بانی کیٹلیا نیلسن کہتی ہیں کہ ان کا برینڈ خواتین کے لیے حیا کی تعریف طے کرنے کے بجائے انہیں مختلف آپشنز فراہم کرنا چاہتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال سے جہاں تک بات حیا کی ہے تو ہم ملٹی کوریج برینڈ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر فرد کے لیے حیا کے معنی منفرد ہیں اور یہ مختلف ثقافتوں اور بیک گراؤنڈز میں ایسے ہی سمجھا جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم خواتین پر اپنی مرضی چلانے کے بجائے انہیں آپشن دینا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے آپ ہماری کلیکشن میں کئی اقسام کی کوریج دیکھ سکتے ہیں۔‘
شریک بانی عائشہ محمد سمجھتی ہیں کہ مملکت میں ابھرتے ہوئے نئے تفریحی مقامات کے ساتھ خواتین ایسے ملبوسات دریافت کریں گی جن میں وہ خود کو بااختیار اور پراعتماد محسوس کر سکیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’امید ہے کہ ہمارے پاس اب جب اکواریبیا ہے تو لوگ ایسے سوئم ویئر خرید سکتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو اچھا محسوس کر سکیں اور پانی کی سرگرمیوں میں کہیں بھی پہن سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ آنے والے وقت میں بہت سی تفریح سرگرمیاں آنے والی ہیں۔ اس کے لیے بہت شاندار پروجیکٹ بنائے جائیں گے تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ خواتین کو ایسے ایڈوینچر میں شامل ہونے کے لیے خود کو بااختیار سمجھنا ہوگا۔‘












