Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وائٹ ہاؤس عشائیہ: گھر والوں نے حملہ آور کے بارے میں اداروں کو آگاہ کیا تھا

فائرنگ کے بعد صدر ٹرمپ کو فوری طور پر بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا (فوٹو: سکرین شاٹ)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس میں تقریب کے موقع پر فائرنگ کرنے والے شخص کو ’کافی بیمار‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بارے میں گھر والوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ بھی کیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے 31 سالہ کول ایلن کے بارے میں بتایا کہ اس نے حملے سے قبل ایک منشور بھی لکھا تھا اور رشتہ داروں کو بھجوایا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے سے وابستہ ایک اہلکار نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کول تھامس ایلن نے منشور میں خود کو ایک ’دوستانہ وفاقی قاتل‘ لکھا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے صدر ٹرمپ کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر حملے کا مںصوبہ بنایا تھا جس کے لیے عہدے کی مناسبت سے نام لکھے گئے تھے تاہم ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کا نام اس میں شامل نہیں تھا۔
تحریر میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ وہ (ایلن) انتظامیہ کی پالیسیوں سے متاثر ہونے والے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اہلکار کے مطابق منشور میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جب کسی پر ظلم ہوتا ہے تو منہ دوسری طرف پھیرنے والا خود اس جرم میں شریک ہو جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو ’کافی زیادہ بیمار‘ قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ یہ منشور حملے سے کچھ دیر قبل اس نے اپنے رشتہ داروں کو بھجوایا تھا اور تقریب کے موقع پر سکیورٹی کی کمی کا مذاق بھی اڑایا تھا۔ 
حملہ آور کی جانب سے یہ بھی لکھا گیا کہ ’اس وقت ہوٹل میں چلتے ہوئے تکبر کا احساس ہو رہا ہے کیونکہ میں متعدد ہتھیار لے کر چل رہا ہوں مگر کسی کو لگ ہی نہیں رہا کہ میں خطرہ بن سکتا ہوں۔‘
دوسری جانب اس واقعے نے اعلیٰ امریکی حکام کی سکیورٹی سے متعلق اقدامات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن میں سے زیادہ تر اس وقت ہوٹل کے اس ہال میں موجود تھے جہاں قریب ہی حملہ آور بھی موجود تھا۔

فائرنگ کی آواز کے ساتھ ہی افراتفری پھیل گئی تھی (فوٹو: گیٹی امیجز)

اس کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر یہ تقریب انتہائی محفوظ ملٹری ہال میں ہوتی تو یہ واقعہ نہ ہوتا مگر وہ ابھی زیر تعمیر ہے اور اس کو بہت تیزی سے نہیں بنایا جا سکتا۔‘
رپورٹ میں حملہ آور کے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ ٹرین کے ذریعے لاس اینجلس سے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا تھا اور پھر ہلٹن ہوٹل میں چیک این کیا تھا۔

 

شیئر: