Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ عمارت زیادہ محفوظ نہیں‘، وائٹ ہاؤس ڈنر کے دوران فائرنگ، حفاظتی انتظامات کیوں ناکام ہوئے؟

قانون نافذ کرنے والے متعدد اداروں کے سینکڑوں اہلکار اس سالانہ عشائیے کی سکیورٹی پر مامور تھے (فوٹو:روئٹرز)
ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران ایک سکیورٹی ایجنٹ پر فائرنگ کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے دور میں امریکہ کے سیاسی رہنماؤں کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کس حد تک مؤثر ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکار اس سالانہ عشائیے کی سکیورٹی پر مامور تھے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی خطاب کیا۔
اس کے باوجود ایک مشتبہ شخص، جو شاٹ گن اور دیگر ہتھیاروں سے لیس تھا، واشنگٹن کے اس بال روم سے صرف ایک منزل اوپر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں کابینہ کے ارکان، اعلیٰ قانون سازوں اور مشہور شخصیات کی بڑی تعداد کھانے میں مصروف تھی۔
صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ، اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وزیر داخلہ ڈگ برگم اور دیگر کئی حکومتی عہدیدار بھی تقریب میں موجود تھے، جن میں سے اکثر کے ساتھ ان کی اپنی سکیورٹی ٹیمیں بھی تھیں۔
زیادہ محفوظ عمارت نہیں‘، ٹرمپ کا تبصرہ
 یہ حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا سکیورٹی اداروں کی طرف سے کوئی کوتاہی برتی گئی یا اس کی وجہ ابلاغ کی کمی تھی۔
تاہم 2024 کی صدارتی مہم کے دوران صدر ٹرمپ پر ہونے والی دو قاتلانہ کوششوں کے تقریباً دو سال بعد پیش آنے والا یہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کا مضبوط ترین سکیورٹی نظام بھی کمزوریوں سے خالی نہیں۔
واشنگٹن کے پولیس سربراہ کے مطابق مبینہ حملہ آور، جس کے پاس شاٹ گن، پستول اور چاقو تھے، اسی واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا جہاں یہ عشائیہ  ہو رہا تھا۔

تقریب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی خطاب کیا (فوٹو: اے ایف پی)

صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے والے اداروں بشمول سکیورٹی ایجنسی کی تعریف کی۔
انہوں نے صدر ہونے کے حوالے سے درپیش خطرات پر بھی بات کی اور کہا کہ ماضی میں بعض صدور کو قتل کیا جا چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حملہ آور بال روم کے دروازوں تک نہیں پہنچ سکا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ہوٹل کے بارے میں کہا کہ ’یہ خاص طور پر محفوظ عمارت نہیں ہے۔‘ یہ ہوٹل وائٹ ہاؤس سے تقریباً دس منٹ کی مسافت پر واقع ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں 1981 میں صدر رونلڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔
اگرچہ تقریب میں شریک تقریباً 2600 افراد کو بیسمنٹ کے بال روم میں داخلے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑا، مگر ہوٹل میں داخل ہونے کے لیے صرف ٹکٹ دکھانا کافی تھا، اور یہ عام مہمانوں کے لیے بھی کھلا ہوا تھا۔ داخلی دروازے کے باہر مظاہرین موجود تھے، جن میں سے کئی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس کے باعث مہمانوں کو جلدی جلدی اندر جانے دیا جا رہا تھا۔
ویڈیو فوٹیج میں حملہ آور کو ایک راہداری میں سکیورٹی چیک پوائنٹ کے پاس سے دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نے ایک ایجنٹ کو گولی ماری، جس کے بعد اہلکاروں نے اسے قابو کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں۔
بال روم کے اندر مہمان ابھی کھانا کھا رہے تھے کہ کمرے کے پچھلے حصے میں موجود مہمانوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔
سکیورٹی اہلکار فوری طور پر صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو مرکزی میز سے ہٹا کر باہر لے گئے، تاہم دیگر وزرا اور قانون سازوں کے محافظوں نے مختلف انداز میں ردِعمل ظاہر کیا۔ کچھ اہلکار بھیڑ سے بھرے ہال میں کرسیوں پر چڑھتے اور میزوں کو ہٹاتے ہوئے مہمانوں تک پہنچے، جبکہ گھبرائے ہوئے مہمان میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

کابینہ کے ارکان مارکو روبیو، سکاٹ بیسنٹ اور ڈگ برگم کی سکیورٹی ٹیموں نے انہیں زمین پر لٹا کر انسانی ڈھال بنا لی (فوٹو: روئٹرز)

کابینہ کے بعض ارکان، جیسے مارکو روبیو، سکاٹ بیسنٹ اور ڈگ برگم کی سکیورٹی ٹیموں نے انہیں زمین پر لٹا کر انسانی ڈھال بنا لی۔ بعد ازاں زیادہ تر اہم شخصیات کو باہر نکال لیا گیا، کچھ کو فوری طور پر نکال لیا گیا اور کچھ کئی منٹ تک اپنی جگہ پر موجود رہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس واقعہ کے بعد بھی تقریب کو جاری رکھنے کے خواہش مند تھے جب کہ وہ 2024 میں ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے تھے جب ایک گولی ان کے کان کو چھوتی ہوئی گزری تھی۔

شیئر: