Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ اختیارات منتقل کرنے پر رضامند

صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کے خلاف اپنی شکست کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اس وقت انتخابی شکست تسلیم کرنے کے قریب پہنچ گئے جب انہوں نے سرکاری ایجنسی جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کو جو بائیڈن کو اقتدار کی منتقلی کے عمل کا آغاز کرنے کے لیے کہا تاہم ساتھ ہی انہوں نے 3 نومبر کے صدارتی الیکشن کے نتائج کے خلاف جدوجہد اور قانونی جنگ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ نے ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن جو ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وہ کرے۔

 

 ری پبلکن صدر نے جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کے فیصلے پر دستخط کرنے اور بائیڈن کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا اشارہ دیا ہے حالانکہ وہ تین ہفتوں سے کہہ رہے ہیں کہ تین نومبر کا صدارتی الیکشن چوری ہوا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق نو منتخب صدر جو بائیڈن کی ٹیم نے تاخیر سے شروع ہونے والے اقتدار کی منتقلی کے عمل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ٹیم نے کہا پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کی جانب یہ ایک مشکل اور اہم قدم تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب جو بائیڈن کی ٹیم کے پاس فنڈز، دفتر کی جگہ اور وفاقی عہدیداروں سے ملاقات کی صلاحیت موجود ہوگی۔
بائیڈن کے دفتر، جس نے گھنٹوں قبل ایک انتہائی تجربہ کار گروپ کو امریکی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے اعلٰی عہدوں کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا، نے کہا تھا کہ جی ایس اے اب ’اقتدار کی ہموار اور پرامن منتقلی کے لیے ضروری مدد فراہم کرے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے ایک تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ امریکی سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ کرپٹ انتخابات کی حیثیت مزید کیسے آگے چلے گی؟ہم پوری رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، جعلی انتخابات کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

 ٹرمپ کئی بار بغیر ثبوت کے دعویٰ کر چکے ہیں کہ حالیہ انتخاب میں دھاندلی ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)

اس سے قبل بھی ایک ٹویٹ میں انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اب بھی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کیس مضبوطی سے جاری ہے، ہم اچھا مقابلہ جاری رکھیں گے، اور مجھے یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کے خلاف اپنی شکست کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا، اور کئی مرتبہ بغیر کوئی ثبوت کے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔
انہوں نے االیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن سے شکست تسلیم نہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وقت ہی بتائے گا کہ مستقبل میں وہ امریکہ کا صدر رہتے ہیں یا نہیں۔
’مستقبل میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، کون جانتا ہے کہ کون سی انتظامیہ برسراقتدار ہوگی، میرے خیال میں یہ وقت ہی بتائے گا۔‘

جو بائیڈن کی ٹیم نے تاخیر سے شروع ہونے والے اقتدار کی منتقلی کے عمل کو خوش آئند قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اس سے قبل امریکہ میں صدارتی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کے عمل کے دوران بھی انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر آپ قانونی ووٹوں کی گنتی کریں تو میں آسانی سے جیت جاؤں گا۔
’ وہ انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔‘
حالیہ دنوں میں ریاست پینسلوینیا کی ایک عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے دعوے کو بھی رد کر دیا تھا جو کہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور دھچکہ تھا۔
بائیڈن کی جیت کو مسترد کرنے کی ٹرمپ کی ناکام کوشش میں اچانک وقفے کے بعد مِشی گن تازہ ترین ریاست سامنے آئی ہے جس نے نتائج کو واضح کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے حامی بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس تعطل کا خاتمہ کیا جائے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں