Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور مصر کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس، متعدد نکات پر اتفاق

سعودی عرب اورجمہوریہ مصر کے مابین مشترکہ مشاورتی کمیٹی کا ریاض میں اجلاس منعقد ہوا ۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اختتامی بیان میں مسئلہ فلسطین کو عرب قوم کا مرکزی مسئلہ قرار دیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق بروز منگل یکم دسمبر2020 کو ریاض میں سعودی عرب اور جمہوریہ مصر کی اعلی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب کی جانب سے کمیٹی کی قیادت وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ جب کہ مصر کے وفد کی سربراہی مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کی۔
دوطرفہ وفود میں دونوں ممالک کے اعلی عہدیدار بھی موجود تھے جن میں معاون وزرائے خارجہ اور دیگر اہم عہدیدار شامل تھے۔ اجلاس میں خطے کی صورتحال سمیت سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں دونوں برادر ملکوں کے مابین تعلقات کی اہمیت پرزور دیتے ہوئے انہیں خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔  دونوں ممالک کی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے بھی باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔

خطے میں بحری جہازرانی کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا(فوٹو، ٹوئٹر)

دوطرفہ کمیٹی کے اجلاس میں خطے اور عالمی صورتحال پر بھی بحث کی گئی اور اہم مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
فریقین نے مسئلہ فلسطین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے عرب امہ کے لیے مرکزی مسئلہ قرار دیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مسئلے کا منصفانہ حل فلسطینی آزاد ریاست کے قیام میں ہی مضمر ہے جس کی حدود 1967 سے قبل تھی اور اس کا درالحکومت ’بیت المقدس ‘ تھا۔
اختتامی بیان میں عرب ممالک کے داخلی امورمیں بین الاقوامی مداخلت کو سختی سے رد کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کوخطے کے امن واستحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیاگیا۔ ساتھ ہی عرب مشترکہ مفادات کے حوالے سے بھی عرب لیگ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں خلیج عربی، آبنائے باب المندب اور بحر الاحمر میں سمندری جہاز رانی کی سلامتی پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیےکسی بھی نقصان دہ کوشش کو مسترد کیا گیا جس سے خطے میں جہاز رانی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو بھی فروغ دینے پر بھی اتفاق کیاگیا۔
بیان کے آخر میں کمیٹی نے دونوں ملکوں کے مابین سیاسی مشاورت کی اہمیت پر اتفاق کیا جس سے دوطرفہ تعلقات نہ صرف مزید مستحکم ہوں گےبلکہ اس سے مشترکہ اہداف کا حصول بھی آسان ہوگا۔
 
 
  

شیئر: