Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ولی عہد نے بحیرہ احمر سیاحتی منصوبے’کورال بلوم‘ کا ڈیزائن جاری کردیا

شہزادہ محمد بن سلمان ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کی مجلس انتظامیہ کے چیئرمین بھی ہیں۔ (فوٹو سبق)
سعودی ولی عہد، نائب وزیراعظم و وزی دفاع  شہزادہ محمد بن سلمان نے ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کے ماتحت ’کورال بلوم‘ کے ڈیزائن کا تصور بدھ کی شام جاری کیا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کی مجلس انتظامیہ کے چیئرمین بھی ہیں۔ 
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے اور اخبار 24 کے مطابق ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی نے جو پوری دنیا میں منفرد سیاحتی منصوبے پر کام کررہی ہے کورال بلوم کے وہ ڈیزائن پیش کیے ہیں جو برطانوی کمپنی ’فوسٹر کمپنی نے ڈیزائن کیے ہیں۔
یہ ڈیزائن بحیرہ احمر کے سب سے بڑے جزیرے کے نوخیز قدرتی ماحول کے تناظر میں بنائے گئے ہیں۔
ریڈ سی کمپنی چیئرمین جان بیگانو نے کہا کہ جزیرہ شریرۃ بحیرہ احمر پروجیکٹ کا صدر دروازہ ہے۔ اسی لیے اس کے ڈیزائن انوکھے اور لازوال قسم کے بنائے جانے ضروری تھے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزائن صرف سعودی عرب کی ہی سطح پر نہیں بلکہ دنیا کی سطح پر بھی منفرد ہیں اور یہ ماحولیاتی تحفظ کی علامت ہیں۔ نیز ترقیاتی عمل میں نئی سوچ اور نیا طرز متعارف کرائیں گے۔ 
شریرۃ جزیرے کے ڈیزائن کا تصور حیاتی تنوع کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت مینگروف درختوں کا تحفظ ہوگا اور قدرتی ماحول کی حفاظت کے لیے سمندری حیاتیات کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے گا۔
علاوہ ازیں جزیرے کی جمالیاتی شکل کو مزید بہتر بنانے کے لیے سپیشل پارک بھی بنائے جائیں گے۔
جزیرے میں گیارہ ہوٹل اور ریزروٹس تعمیر ہوں گے۔ انہیں کووڈ 19 وبا کے بعد سیاحوں کی امنگوں کے عین مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہاں بڑے بڑے میدان ہوں گے۔

جزیرہ شریرۃ میں گیارہ ریزروٹس اور ہوٹل دنیا کے مشہور ترین ہوں گے۔ (فوٹو ایس پی اے) 

ڈیزائن کے مطابق ڈولفن نما جزیرے پر نئے ساحل بنائے جائیں گے اور نئی جھیل بھی تیار کی جائےگی جس سے جزیرے کا ماحول بہت عمدہ ہوجائے گا۔ سطح سمندر بلند ہونے کی صورت میں طوفان کے خطرات سے تحفظ بھی حاصل رہے گا۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں جو تبدیلیاں ہوں گی وہ جزیرے کے نقوش کو برقرار رکھیں گی۔ ان سے جزیرے کا قدرتی ماحول کسی بھی شکل میں متاثر نہیں ہوگا۔ 
پروگرام کے مطابق جزیرہ شریرۃ میں گیارہ ریزروٹس اور ہوٹل دنیا کے مشہور ترین ہوں گے۔  
ہوٹلوں اور ریزروٹس کی تعمیر میں ایسے عمارتی عناصر استعمال کیے جائیں گے جن سے بجلی کا استعمال کم سے کم ہو اور ان سے ماحول متاثر نہ ہو۔  
ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی 2024 تک 30 فیصد کام مکمل کرلے گی۔ یہاں دنیا بھر میں بیٹریاں چارج کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا سسٹم قائم کیا جائے گا۔ اس کی بدولت پروجیکٹ کےایک ایک حصے کے لیے تجدید پذیر توانائی میسر ہوگی۔

ریڈ سی پروجیکٹ پر دن رات کام ہورہا ہے۔ 2022 کے آخر میں یہاں سیاحوں کا خیر مقدم شروع ہوجائے گا۔(فوٹو ایس پی اے)

 یاد رہے کہ ریڈ سی پروجیکٹ پر دن رات کام ہورہا ہے۔ 2022 کے آخر میں یہاں سیاحوں کا خیر مقدم شروع ہوجائے گا۔ اس وقت تک انٹرنیشنل ایئرپورٹ چار ہوٹلوں کا افتتاح کردیا جائے گا۔ باقی ہوٹل پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 2023 تک تعمیر ہوں گے۔
ریڈ سی پروجیکٹ منصوبہ 2030 میں مکمل ہوگا۔ یہ پچاس ہوٹلوں اور ریزروٹس پر مشتمل ہوگا، 8 ہزار کمرے ہوں گے۔ 1300 رہائشی عمارتیں 22 جزیروں میں تعمیر ہوں گی۔ چھ داخلی مراکز ہوں گے۔ گالف کلب ہوں گے اور تفریحات کے متعدد مراکز بھی قائم ہوں گے۔

شیئر: