سعودی عرب نے 2026 کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا سال قرار دے دیا
بین الاقوامی طور پر سعودی عرب نے اے آئی سیکٹر میں اپنی شمولیت مضبوط کی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
ولی عہد، وزیراعظم اور چیئرمین آف دی سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (سدایا) شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے تعاون سے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں عالمی مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس تیز رفتار ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ کو کابینہ نے 2026 کو مملکت میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے سال کے طور پر منانے کی منظوری دی ہے۔
سنہ 2019 میں قائم ہونے والے سدایا نے نیشنل سٹریٹیجی فار ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں قیادت کی ہے جس کی توجہ چھ ستونوں یعنی مقصد، مقابلہ، پالیسیوں، سرمایہ کاری، ایجادادت اور ایکوسسٹم پر مرکوز ہے۔
ان کوششوں کی بدولت مملکت نے سٹریٹیجک پلاننگ سے عمل درآمد کیا ہے جن میں اے آئی سیکٹرز کو ریگولیٹ کرنا اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ترقی کرنا ہے۔
سعودی عرب کی یہ ترقی عالمی رینکنگ میں بھی نظر آ رہی ہے۔ مملکت کا 2025 کے گلوبل اے آئی انڈکس میں 14واں نمبر رہا جبکہ عرب دنیا میں اے آئی ماڈل ڈیویلپمنٹ میں اس کا پہلا نمبر ہے۔
اس سیکٹر میں سرمایہ کاری نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ حکومت نے جدید ابھرتی ٹیکنالوجیز پر 2024 کی نسبت 56 فیصد زیادہ خرچ کیا ہے اور اے آئی کمپنیوں نے 9.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔
یہ انفراسٹرکچر شاہین تین سپرکمپیوٹر اور ہیکساگون ڈیٹا سینٹر کے لانچ ہونے کے بعد کافی بڑھ چکا ہے۔
ہیکساگون ڈیٹا سینڑ دنیا کی سب سے بڑی گورنمنٹ فیسیلیٹی ہے جس کی صلاحیت 480 میگاواٹس ہے۔
مملکت نے نیشنل ڈیٹا لَیک بھی قیام کیا ہے جس کے ذریعے 430 سے زیادہ گورنمنٹ سسٹم مربوط ہیں۔
ہیومن کیپیٹل ڈیویلپمنٹ بھی مملکت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں 11 ہزار سے زائد سپیشلسٹ کو ٹریننگ دی گئی اور سمائی پروگرام تک 10 لاکھ افراد نے رسائی حاصل کی۔
بین الاقوامی طور پر سعودی عرب نے اے آئی سیکٹر میں اپنی شمولیت مضبوط کی ہے۔

سعودی عرب گلوبل پارٹنرشپ آن اے آئی (جی پی اے آئی) میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بنا اور ریاض میں یونیسکو کے تعاون سے ہونے والے انٹرنیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایتھکس (آئی سی اے آئی آر ای) کی میزبانی بھی کی۔
یہ اقدامات مملکت کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو استعمال کرنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں جس سے معاشی تنوع کو سپورٹ ملتی ہے اور انسانیت کی عالمی سطح پر خدمت ہوتی ہے۔
