Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا ابشر سروس کے لیے سمارٹ فون ضروری ہے؟

ابشر ایپ فوری ضرورت کے تقاضے کے طورپر متعارف کرائی گئی تھی تاکہ بعض اہم معاملات کو فوری طور پر نمٹایا کیا جا سکے: فوٹو: ابشر ویب سائٹ
سعودی عرب میں وزارت داخلہ کی جانب سے سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے ’ابشر‘ سروس پر اکاؤنٹ بنانے کے حوالے سے بعض افراد کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ابشر سسٹم کے لیے سمارٹ فون کا ہونا ضروری ہے۔ 
ابشر سسٹم میں اکاؤنٹ بنانے کے لیے موبائل سم اس شخص کے نام سے رجسٹر ہونا ضروری ہے جس کا اکاونٹ بنایا جائے گا۔
 ابشر سسٹم میں ہر شخص کی اہم معلومات ہوتی ہیں جو کسی بھی غیر متعلق شخص کے پاس نہیں جانا چاہئیں۔ اس لیے ذاتی معلومات کو محفوظ بنانے کے لیے اکاؤنٹ میں لاگ ان ہوتے وقت سسٹم خودکار طریقے سے موبائل پر پن کوڈ ارسال کرتا ہے جسے کنفرم کرنا لازمی ہے بصورت دیگر سسٹم آن نہیں ہوتا۔ 
جس طرح بینک اکاؤنٹ میں لاگ ان ہونے کے لیے پن کوڈ متعلقہ شخص کے موبائل نمبر پر ارسال کیا جاتا ہے جسے فیڈ کرنے کے بعد ہی اکاؤنٹ میں لاگ ان کیا جا سکتا ہے اسی طرح ابشر سسٹم کو بھی محفوظ بنانے کے لیے پن کوڈ ارسال کیا جاتا ہے۔ 
ابشرسسٹم میں اکاؤنٹ
جوازات کی جانب سے ابشر سسٹم میں اکاؤنٹ بنانے کے لیے جوازات کے مرکزی اور ذیلی دفاتر کے علاوہ مختلف شہروں کے کمرشل پلازوں میں ’ابشر‘ کے کمپیوٹر نصب کیے گئے ہیں جہاں فنگر پرنٹ اور تصویر فیڈ کرنے کے بعد اپنا رجسٹرڈ موبائل کا فون نمبر درج کرانا لازمی ہے۔ 
جوازات کی مشین پر پہلی بار ابشر کا اکاؤنٹ بنانے کے بعد وہاں سے مخصوص کوڈ رجسٹرڈ موبائل فون پر ارسال کیا جاتا ہے جسے کنفرم کرنے پر ہی سسٹم آپریٹ ہو جاتا ہے۔ 
سمارٹ فون اور ابشر اکاؤنٹ
یہ تصور غلط ہے کہ ابشر اکاؤنٹ سمارٹ فون کے بغیر نہیں بن سکتا۔ ابشر کا سسٹم  سمارٹ فون کے عام ہونے سے قبل مملکت میں رائج ہے تاہم اس میں تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ لائی گئی ہیں۔ 
ابشر ایپ  

ابشر سسٹم میں اکاؤنٹ بنانے کے لیے موبائل سم اس شخص کے نام سے رجسٹر ہونا ضروری ہے جس کا اکاونٹ بنایا جائے گا: ابشر ٹوئٹر

جوازات کی جانب سے لوگوں کی سہولت کے لیے کچھ عرصہ قبل سمارٹ فون کے لیے ’ابشرایپ‘ بھی لانچ کی گئی تھی تاکہ اسے سمارٹ فون میں استعمال کیا جا سکے۔  
یہ ضروری نہیں کہ ابشر کو استعمال کرنے کے لیے سمارٹ فون ہو بلکہ ’ابشر ویب‘ میں ایپ سے زائد سروسز آپریٹ کی جاسکتی ہیں جو ایپ میں دستیاب نہیں ہوتی۔ 
ابشر ایپ فوری ضرورت کے تقاضے کے طورپر متعارف کرائی گئی تھی تاکہ بعض اہم معاملات کو فوری طور پر مکمل کیا جا سکے۔ 
آج کل سمارٹ فون ہرشخص کی دسترس میں ہے اور بے حد عام ہو چکا ہے اس لیے اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے جوازات کی جانب سے ابشر ایپ لانچ کی گئی۔ 
سسٹم میں پاس ورڈ کی تبدیلی 

جوازات کی جانب سے لوگوں کی سہولت کے لیے کچھ عرصہ قبل سمارٹ فون کے لیے ’ابشرایپ‘ بھی لانچ کی گئی تھی تاکہ اسے اسمارٹ فون میں استعمال کیا جا سکے: فوٹو ابشر ایپ

ابشراکاونٹ میں بعض افراد پاس ورڈ تبدیل کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے ابشرانتظامیہ کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ میں لاگ ان ہونے کے بعد ’پاس ورڈ تبدیلی ‘ کےآپشن میں جا کر وہاں سے پاس ورڈ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 
پاس ورڈ تبدیلی کے بعد رجسٹرڈ موبائل فون پر ابشر کے خودکار نظام کے تحت کوڈ ارسال کیا جاتا ہے جسے کنفرم کرنے کے بعد ہی پاس ورڈ تبدیل ہو گا اس لیے بھی ابشر سسٹم کے لیے رجسٹرڈ موبائل نمبر کا ہونا ضروری ہے۔ 
 

شیئر: