Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ کے دوران مرنے اور زخمی ہونے والوں کا معاوضہ ادا کرے: صدر ٹرمپ کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن مذاکرات میں جنگی نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کریں گے۔ 
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے مبینہ طور پر کیے گئے حملے کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور اِن مظالم کے پیشِ نظر ایران کو اِن کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔‘ 
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹُروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایران گذشتہ پانچ ماہ کے دوران خود کو ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگ رہا ہے۔‘
’میں بھی ایران سے ان تمام افراد کے لیے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہوں جنہیں اُس نے سڑک کے کنارے نصب بموں اور متعدد تنازعات میں قتل یا شدید زخمی کیا۔‘
اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے 2000 میں امریکی جنگی بحری جہاز ’یو ایس ایس کول‘ پر ہونے والے حملے کا بھی حوالہ دیا۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ معاوضہ ’ان لاکھوں بے گناہ مظاہرین کے خاندانوں کو بھی ادا کیا جانا چاہیے جنہیں ایران نے گذشتہ 50 برسوں کے دوران قتل کیا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ آئندہ ہونے والے تمام مذاکرات میں اس مطالبے کو بھی شامل کریں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ موقف ایران کے خلاف سخت بیانات اور پھر مذاکرات کا عندیہ دینے کے سلسلے کی ایک اور کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ 
گذشتہ ہفتے انہوں نے ایران کو ’انتہائی شِدت‘ سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جس میں اُس کے بنیادی شہری ڈھانچے پر حملے کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں وہ پیچھے ہَٹ گئے اور عندیہ دیا کہ ’امن معاہدہ‘ قریب ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تازہ موقف اُن کے اِس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں تنازعے کے معاملے میں قدرے ’نرم‘ رویہ  اختیار کر رہا ہوں، یعنی وہ مزید فوجی حملوں کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے کو ترجیح دیں گے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے امریکی ادارے ’ایکسیوس‘ کے مطابق اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہُرمز کو کھولنے کے معاہدے میں ایران کی جانب سے تاخیر پر کسی غصے کا اظہار نہیں کیا۔
ایران کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پہلے امریکہ اُس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی صنعت پر عائد کی گئی پابندیاں اٹھائے۔
مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز کی بندش کے باعث تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔
اس صورتِ حال نے نومبر میں ہونے والے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

شیئر: