Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غیرملکی سرمایہ کار مکہ اور مدینہ میں کرائے پر جائیدادیں حاصل کرسکیں گے

سعودی کابینہ نے نجکاری کے نئے قانون کی حال ہی میں منظوری دی ہے( فوٹو اخبار 24)
سعودی عرب میں نجکاری کا نیا قانون جس کی منظوری حال ہی میں سعودی کابینہ نے دی تھی میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو مکہ اور مدینہ شہروں کے دائرے میں غیر منقولہ جائیدادیں کرایے پر حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
اخبار 24 کے مطابق نجکاری کے نئے قانون کے تحت غیرملکی سرمایہ کار مکہ اور مدینہ میں غیر منقولہ جائدادیں کرایے پر حاصل کرسکتے ہیں بشرطیکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ طے شدہ معاہدے میں شامل تمام ہدایات کی پابندی کریں۔
غیر منقولہ جائیدادیں کرایے پر حاصل کرنے کا مقصد نجکاری منصوبے کے مقاصد کی تکمیل ہونا چاہیے۔
نجکاری قانون کی دفعہ 37 میں ہے کہ مبینہ شرائط کی خلاف ورزی پر غیرملکی سرمایہ کار کے کرایے کا معاہدہ ختم کردیا جائے گا۔
اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ پہلے اسے متعلقہ ادارے کی طرف سے خلاف ورزی کے ازالے کا انتباہ دیا جائے گا۔ اگر مقررہ مدت کے اندر سرمایہ کار نے خلاف ورزی کی اصلاح نہ کی تو ایسی صورت میں مقررہ مدت گزرنے پر کرایے کا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ 
یاد رہے کہ نجکاری قانون میں نجکاری معاہدے پر دستخط کرنے والے اداروں پر پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ادارے سے تحریری منظوری کے بغیر فریق ثانی کے ساتھ شراکت کے معاہدے سے مکمل یا جزوی طور پر دستبردار نہیں ہوسکتے۔
نجکاری قانون میں یہ پابندی بھی رکھی گئی ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان شراکت کے معاہدے کا دورانیہ دستخط کی تاریخ سے 30 برس سے زیادہ کا نہیں ہوگا البتہ متعلقہ ادارے کی سفارش پر دورانیے کی میعاد 30 برس سے زیادہ کی جاسکتی ہے۔

شیئر: