کوئٹہ کے قریب کسٹم کے گودام میں آگ بھڑک اُٹھی، 45 زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
کوئٹہ کے قریب کسٹم کے گودام میں آگ بھڑک اُٹھی، 45 زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
اتوار 10 مئی 2026 21:03
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مستونگ روڈ پر قائم قصبے لاک پاس میں کسٹم کے ویئر ہائوس میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی جس میں کم از کم 45 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں پانچ سکیورٹی اہل کار بھی شامل ہیں۔
زخمیوں کو کوئٹہ کے تین مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور شہر بھر میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جن میں کوئٹہ کا سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس اور شیخ زید ہسپتال شامل ہے۔
کوئٹہ سے اُردو نیوز کے نامہ نگار زین الدین کے مطابق آگے لگنے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
ریسکیو سرگرمیاں کئی گھنٹوں سے جاری ہیں جن میں متعدد گاڑیوں کے علاوہ قیمتی سامان نذرِ آتش ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے کوئٹہ سے کراچی کے علاوہ نوشکی جانے والی شاہراہ کو بھی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔
فائر بریگیڈ اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں آگ بجھانے کے علاوہ امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آگ پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا اور کسٹم گودام میں ضبط کیا گیا سامان بڑی مقدار میں جل کر راکھ ہو گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد افراتفری مچ گئی اور بہت سے ایسے لوگ بھی جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے جو سامان لوٹنے لگے۔ اس راستے سے چونکہ ایرانی پیٹرول سمگل ہوتا ہے تو ایرانی تیل سمگل کرنے والے بھی اس لوٹ مار میں شامل ہوگئے جس سے وہ بھی آگ کی زد میں آئے جس پر انتظامیہ نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گودام کے اندر موجود ایل پی جی سلنڈرز، ایندھن کے ذخائر اور خطرناک کیمیکلز کی موجودگی کے باعث آگ کی شدت میں غیرمعمولی طور پر اضافہ ہوا جس کے باعث فوری طور پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔
ریلیف کمشنر / ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ڈائریکٹر ریسکیو خود جائے وقوعہ پر پہنچے اور جاری ریسکیو آپریشن کی نگرانی شروع کی۔ دونوں افسر صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔
آگ لگنے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی (فوٹو: وائس آف بلوچستان)
اس دوران صورتِ حال مزید سنگین ہو گئی جب اداروں کی جانب سے جائے وقوعہ کی آپریشنل نگرانی کے دوران ایل پی جی کے ایک بڑے باؤزر میں زوردار دھماکہ ہوا جس میں ریلیف کمشنر /ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ونگ کمانڈر اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب معمولی زخمی ہوئے۔
آگ صبح 11بجے لگی اور 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود اب تک متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس وقت ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنر سریاب، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی فائر بریگیڈ، فرنٹیئر کور، پولیس اور پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور صورتِ حال پر قابو پانے، آگ کو محدود کرنے اور عوامی تحفظ یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔