Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں پاکستانی ڈرائیور کا قتل: 7 لاکھ ڈالرز سے زائد کا عطیہ

گاڑی الٹنے کے نتیجے میں محمد انور شدید زخمی ہوگئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کار چھیننے کی واردات کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے اہل خانہ کے لیے 7 لاکھ ڈالرز سے زائد عطیات اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ 
پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے اہل خانہ کے لیے فنڈ ریزنگ ویب سائٹ پر ایک لاکھ ڈالرز کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اب تک 9 ہزار افراد نے رقم جمع کروائی ہے۔
خیال رہے کہ 66 سالہ محمد انور واشنگٹن ڈی سی میں کار چھیننے کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر شدید زخمی ہونے کے بعد ایک قریبی ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ 
منگل کو 13 اور 15 سال کی لڑکیوں نے جب ان کی کار چھیننے کی کوشش تو اس دوران محمد انور نے مزاحمت کی۔
ڈکیتوں نے گاڑی کو تیز رفتاری سے بھگانے کی کوشش کی لیکن گاڑی بے قابو ہونے سے سڑک کنارے الٹ گئی۔ 
گاڑی الٹنے کے نتیجے میں محمد انور شدید زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اغوا کاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ 
فنڈر ریزنگ کی ویب سائٹ پر اہل خانہ کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق 66 سالہ محمد انور 2014 میں روزگار کے سلسلے میں امریکہ منتقل ہوئے جہاں وہ ٹیکسی چلا کر اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ 
امریکی ریاست ورجینیا میں رہائش پذیر محمد انور کے لواحقین میں اہلیہ اور دو بیٹے امریکہ جبکہ ایک بیٹا اور چار پوتے پاکستان میں مقیم ہیں۔ 
محمد انور ہیش ٹیگ کے ساتھ ہونے والی ٹویٹس میں خالد بیدون نامی صارف نے لکھا کہ مسلم مہاجر کے قتل کا نسل پرستی سے متعلق کوئی عمل دخل نہیں۔ اس سے رنگ و نسل میں تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔‘
کرن نامی ٹوئٹر صارف نے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’جیکٹ ہو یا گاڑی وہ آپ کی جان سے بڑھ کر نہیں۔
ٹوئٹر ہینڈل پریشیئس نے اپنی حالت بتاتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے ویڈیو دیکھ لی ہے اور اب خود کو رونے سے روک نہیں پا رہا۔

شیئر: