Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آمدن میں اضافہ نہیں لیکن پی آئی اے کے خسارے میں 18 ارب روپے کی کمی

سول ایوی ایشن کا کہنا ہے پی آئی اے میں قرضوں کا بوجھ سابق ادوار میں لیے گئے قرضوں کی وجہ سے بہت زیادہ ہے۔ فوٹو: ان سپلیش
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وبا کے باعث آمدن میں کمی کے باوجود اس کے خسارے میں تقریباً 18 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔
سال 2020 میں قومی ایئر لائن کا خسارہ 52.6 ارب روپے سے کم ہو کر 34.64 ارب روپے رہ گیا۔ یاد رہے کہ ن لیگ کے دور حکومت کے آخری سال میں پی آئی اے کا خسارہ 67 ارب روپے تھا۔
پی آئی اے کی جانب سے سٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2020 کو ختم ہونے والے پی آئی اے کے مالی سال میں کل آمدنی 94.98 ارب روپے رہی۔ سال 2019 میں پی آئی اے کی آمدنی 147 ارب 50 کروڑ روپے تھی۔
رپورٹ کے مطابق پروازوں کی تعداد میں کمی کے باعث ایئر کرافٹ فیول کی خریداری میں کمی ہوئی ہے۔ سال 2020 میں ایئر کرافٹ فیول کی مد میں 21.15 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ سال 2019 میں اس مد میں 50 ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔
انتظامی اخراجات کی مد میں بھی 50 کروڑ روپے کمی کی گئی ہے۔ سال 2020 میں انتطامی اخراجات پانچ ارب 70 کروڑ روپے رہے جبکہ مالی سال 2019 میں انتظامی اخراجات 6 ارب 20 کروڑ روپے تھے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں سول ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ 2019 میں پی آئی اے کا قرضہ 286 ارب روپے تھا تاہم اس قرضے کے اوپر سود کے باعث بیلنس شیٹ پر 2019 میں صرف قرضوں کی مد میں ماہانہ 64 کروڑ روپے کا خسارہ براشت کرنا پڑا۔
اس حوالے سے سے سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے میں قرضوں کا بوجھ سابق ادوار میں لیے گئے قرضوں کی وجہ سے بہت زیادہ ہے جو خسارے کا باعث بن رہا ہے۔ تاہم موجودہ انتطامیہ نے اس حوالے سے پالیسی میں تبدیلیاں کی ہیں۔ غیر منافع بخش روٹس ختم کرکے منافع بخش روٹس پر پروازیں بڑھائی گئی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2020 کو ختم ہونے والے پی آئی اے کے مالی سال میں کل آمدنی 94.98 ارب روپے رہی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

حکام کے مطابق اس کے علاوہ پی آئی اے کے اندر مالی اور ہیومن ریسورس کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ رضا کارانہ طور پر ملازمت سے علیحدگی کی سکیم متعارف کرائی گئی جس سے ایک ہزار 925 ملازمین نے استفادہ کیا۔
پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا ہے کہ جعلی ڈگری سے متعلق تمام معاملات ایف آئی اے کو بھیج دیے، جعلی ڈگری والے پی آئی اے کے سات پائلٹس کو برطرف کردیا گیا، تقرریوں کے ذمے دار افسران کو ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ جعلی ڈگری والے پائلٹس کی تقرریاں ایک ہزار 1988 سے 2013 کے دوران ہوئیں۔ کارروائی سے پہلے پائلٹس کی ڈگریاں متعلقہ اداروں سے چیک کرائی گئیں۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ہزار 960 پائلٹوں کی ڈگریوں کی تصدیق کرائی گئی ہے جن میں پی آئی اے کے 702، ایئر بلیو کے 162، سیرین ایئر کے 59 اور شاہین ایئر لائن کے 337 پائلٹ شامل ہیں۔

حکام کے مطابق پی آئی اے کے اندر مالی اور ہیومن ریسورس کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

پی آئی اے کے تین جبکہ شاہین ایئر لائن کے دو پائلتوں کی ڈگریاں جعلی نکلی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں کل 42 ایئر پورٹس ہیں جن میں27 آپریشنل ہیں۔ آپریشنل ایئرپورٹس میں 12 انٹرنیشنل جبکہ 15 ڈومیسٹک پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ 11 ایئر پورٹ بند ہیں جبکہ چھ کو سکیل ڈاون کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھی پی آئی اے کی تنظیم نو پلان کی منظوری دے دی ہے تاہم حتمی منظوری کے لیے پلان وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔

سال 2020 میں قومی ایئر لائن کا خسارہ 52.6 ارب روپے سے کم ہو کر 34.64 ارب روپے رہ گیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

دو روز قبل ہونے والے اجلاس میں ہوا بازی ڈویژن کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی تنظیم نو سے متعلق منصوبے کی سمری پیش کی گئی۔ مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے ری سٹرکچرنگ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے پی آئی اے کی ری سٹرکچرنگ، ادارے کے خسارے میں کمی اور اسے مالیاتی طور پر فعال بنانے کے ضمن میں مختلف آپشنز پیش کیے جن میں رضاکارانہ علیحدگی سکیم، ہوابازی کے ماہرین کی خدمات کا حصول، فضائی بیڑے کی جدت، روٹس کو معقول بنانے، پراڈکٹ ڈویلپمنٹ اور محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ای سی سی نے تفصیلی بحث و مباحثہ اور ٹیکس واجبات پر مفاہمت کے بعد پی آئی اے کے ری سٹرکچرنگ پلان کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی۔
یاد رہے کہ گذشتہ 15 سال میں پی آئی اے کو مجموعی طور 499 ارب 75 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔

شیئر: