Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تین برس کے بعد رہا ہونے والے احد چیمہ کون ہیں؟

لاہور ہائیکورٹ نے احمد چیمہ کو آخری مقدمے میں بھی ضمانت پر رہا کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے دور میں شہباز شریف کے قریب سمجھے جانے والے افسر احد چیمہ کو آخری مقدمے میں بھی ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔  
انہیں نیب کی جانب سے بنائے جانے والے آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں اس بنا پر رہا کیا گیا ہے کہ وہ تین سال سے قید میں ہیں اور ان کا ٹرائل ابھی بھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق ’ٹرائل کے دو برسوں کے دوران 66 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوئے جبکہ کُل گواہان کی تعداد 200 سے زائد ہے۔‘
’اس ٹرائل کے مکمل ہونے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں، لہٰذا سپریم کورٹ کے وضع کردہ ضمانت کے اصول کے تحت ملزم کو اتنے لمبے عرصے کے لیے سزا کے بغیر جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔‘ 
خیال رہے کہ اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے احد چیمہ کی ضمانت منظور نہیں کی تھی اور ٹرائل کورٹ کو حکم دیا تھا کہ چار ماہ میں فیصلہ کیا جائے، تاہم ایک سال گزر جانے کے باوجود فیصلہ نہ ہونے پر انہوں نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور تکنیکی بنیادوں پر ضمانت کا مطالبہ کیا گیا، جسے قبول کر لیا گیا۔
عدالت نے انہیں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا ہے۔
اس سے پہلے عدالت آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے مقدمے میں بھی ان کی ضمانت منظور کر چکی ہے۔
اس کیس میں وہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ شریک ملزم تھے، تاہم اس کیس میں دونوں کی ضمانت منظور ہو گئی تھی۔ شہباز شریف تو رہا ہو گئے تھے تاہم آمدن سے زائد اثاثوں کے ایک اور کیس میں انہوں نے مزید ایک سال جیل کاٹی۔  

احد چیمہ شہباز شریف کے دور حکومت میں ان کے قریب سمجھے جانے والے افسر تھے (فوٹو: روئٹرز)

احد چیمہ کون ہیں؟ 

احد چیمہ کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے اور وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے گریڈ 20 کے افسر ہیں۔ وہ ایسے پہلے 20 گریڈ کے افسر ہیں جن کی تین سال کی سروس جیل میں گزری ہے۔

ان کا تعلق ڈی ایم جی گروپ سے ہے۔ سب سے پہلے پنجاب کی افسر شاہی میں ان کا نام اس وقت سامنے آیا جب 2005 میں چوہدری پرویز الہٰی کے دور حکومت میں انہیں ’پڑھا لکھا پنجاب‘ نامی مہم کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔
پنجاب میں ورلڈ بینک کے تعاون سے زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکول میں داخل کروانے کی یہ ایک کامیاب مہم سمجھی جاتی ہے۔  
بعد ازاں 2008 میں جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے پنجاب کی بیوروکریسی کے افسران کے خود انٹریو کیے اور اپنی ٹیم بنائی۔
احد چیمہ بھی ان کی ٹیم کے سرکردہ رکن تھے۔ شہباز شریف کے دونوں ادوار اقتدار میں وہ اہم عہدوں پر فائز رہے۔

مبصرین کے مطابق فواد حسن فواد اور احمد چیمہ کی گرفتاری بیوروکریسی اور تحریک انصاف حکومت کے درمیان تنازع کی وجہ بنی (ٹوئٹر)

ان کو دو مرتبہ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا ڈی جی لگایا گیا۔ جب 2011 میں پاکستان کی پہلی میٹرو بس سروس بنانے کا آغاز ہوا تو اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بھی احد چیمہ ہی تھے۔
خیال رہے کہ یہ پراجیکٹ 11 ماہ میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے بعد انہیں پنجاب حکومت کے بجلی کے منصوبوں کی کمپنی قائد اعظم تھرمل پاور کا سی ای او بنایا گیا اور گذشتہ دور حکومت میں لگنے والے تیز ترین بجلی کے منصوبوں کی نگرانی وہی کر رہے تھے۔
ان منصوبوں کو چین نے سرکاری طور پر پنجاب سپیڈ کا نام دیا تھا کیونکہ یہ تمام منصوبے سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری سے بنائے گئے تھے۔  
شہباز شریف کے دوسرے دور حکومت کے اختتام پر فروری 2018 میں ان کو ان کے سرکاری دفتر سے نیب نے گرفتار کر لیا اور ان پر دو مقدمات چلائے گئے، ایک مقدمہ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی جبکہ دوسرا آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل کہا تھا کہ بیوروکریسی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی (فوٹو: اے ایف پی)

ان کی عدالت پیشی کے موقع پر بڑی تعداد میں سرکاری افسران ان سے اظہار یکجہتی کے لئے اکھٹے ہوتے رہے۔  
مبصرین کا خیال ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اورسابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ٹیم کے افسر احد چیمہ کی گرفتاری ہی بیورکریسی اور تحریک انصاف کی حکومت کے مابین تنازع کی وجہ بنی۔
وزیراعظم پاکستان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ’وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیوروکریسی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی‘ تاہم انہوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی۔

شیئر: