Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا ایم ایل ون منصوبہ ریلوے حادثات پر قابو پانے کا ’واحد حل‘ ہے؟

پاکستان ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں (2018 سے جون 2021 تک) ٹرینوں کے مجموعی طور پر 434 حادثات پیش آ چکے ہیں۔
ان حادثات میں 230 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے جبکہ 285 شدید زخمی ہوئے۔  ہلاک ہونے والوں میں 100 مسافر،121 راہ گیر اور نو ریلوے ملازمین شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ حادثات خستہ حال ریلوے ٹریک، ریلوے کے پرانے ڈھانچے، سگنلز میں خرابی، غلط کراسنگ، ریلوے لائن پر پھاٹک کی عدم موجودگی، ڈرائیورز کی غلطی، اور اسی طرح کی دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث پیش آتے ہیں۔
ریلوے کے وزیر ہوں یا اعلیٰ حکام، ان حادثات سے بچنے کا ایک ہی حل تجویز کرتے ہیں کہ اگر ایم ایل ون منصوبہ مکمل ہو جائے تو حادثات میں کمی واقع ہو جائے گی۔
گزشتہ سال ایک حادثے کے بعد سپریم کورٹ میں ریلوے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالتی بینچ نے حادثات کی وجوہات اور ان کے حل کے بارے میں استفسار کیا تھا۔
جس پر اس وقت کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ ’ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل کے بغیر حادثات پر قابو پانا ممکن نہیں۔‘
عدالت نے وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی سے اس منصوبے میں تاخیر پر جواب بھی طلب کیا تھا جس کے بعد سی ڈی ڈبلیو پی نے منصوبہ ایکنک کو منظوری کے لیے بھیجا تھا۔
ویسے تو یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے بلکہ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ سی پیک منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے تاہم اس پر تاحال کام شروع نہیں ہو سکا۔

 شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ ’ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل کے بغیر حادثات قابو پانا ممکن نہیں‘ (فوٹو: اے پی پی)

سابق وزیر ریلوے سعد رفیق بھی ایم ایل ون منصوبے کو ہی حادثات سے بچاؤ کا واحد حل قرار دیتے ہیں تاہم وہ اس کی تاخیر پر موجودہ حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
گھوٹکی میں ٹرین حادثے پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’یہ حادثہ کمزور سگنلنگ نظام کی وجہ سے پیش آیا جسے اپ گریڈ کرنے کے وسائل ریلوے کے پاس موجود نہیں ہیں۔‘
موجودہ حکومت نے ریلوے کے ترقیاتی بجٹ میں 60 فیصد کمی کی جس میں ٹریک مینٹینینس کا بجٹ بھی کاٹا گیا۔
دوسری جانب ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ منصوبے پر کام رواں برس ہی شروع ہو جائے گا۔
ریلوے حکام کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سے حویلیاں تک 1872 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کواپ گریڈ اور ڈبل کیا جائے گا۔
نئے اور بہتر ٹریکس سے مسافر ٹرینوں کی رفتار 110 سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔

ریلوے حکام کے مطابق تمام ٹریکس کے اردگرد حفاظتی باڑ اور راستے میں جدید ٹیلی کام سنگنلز کی تنصیب ہوگی جس سے ریلوے لائن پر حادثات میں کمی ہوگی (فائل فوٹو: اے پی پی)

174 کلومیٹر ریلوے ٹریک پشاور سے نوشہرہ اور راولپنڈی پہنچے گا۔ راولپنڈی سے لالہ موسی کا 105 کلومیٹر اور خانیوال سے پنڈورا کا 52 کلومیٹر طویل ڈبل ٹریک بنے گا۔
لاہور سے لالہ موسی کا 132کلومیٹر، لاہور سے ملتان 339 کلومیٹر کا ڈبل ٹریک بھی مکمل کیا جائے گا۔
نواب شاہ سے 183 کلومیٹر ٹریک روہڑی سے ملائے گا اور حیدر آباد سے کیماڑی کا 182 کلومیٹر کا ٹریک بنایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت حیدرآباد ملتان کے درمیان طویل ترین 749 کلومیٹر کا ٹریک بھی ڈبل اور اپ گریڈ ہوگا۔
تمام ٹریکس کے اردگرد حفاظتی باڑ اور راستے میں جدید ٹیلی کام سنگنلز کی تنصیب ہوگی جس سے ریلوے لائن پر حادثات کم ہوں گے جبکہ سگنلز کا نظام بہتر ہونے سے کراسنگ کے دوران ہونے والے حادثات میں بھی کمی آئے گی۔
 اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرینوں کی آمدورفت کی تعداد 34 سے بڑھ کر 170 سے زائد ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق یہ حادثات خستہ حال ریلوے ٹریک، سگنلز میں خرابی، غلط کراسنگ اور اسی طرح کی دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث پیش آتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مسافر ٹرینوں کے علاوہ فریٹ ٹرینوں کے لوڈ میں 1000 ہزار ٹن اضافے سے وزن کی گنجائش 2400 سے بڑھ کر 3400 ٹن ہو جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت حویلیاں کے قریب جدید خصوصیات کا حامل ڈرائی پورٹ بھی تعمیر کیا جائے گا۔
منصوبے کی ابتدائی لاگت نو ارب ڈالر تھی جس میں پاکستانی حکومت کی ایکویٹی کی رقم بھی شامل تھی لیکن بعد میں اسے کم کر کے چھ ارب 80 کروڑ ڈالر تک محدود کر دیا گیا تھا۔
چینی ایگزم بینک چھ ارب جبکہ پاکستان 80 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔ اس رقم کا بڑا حصہ لائن، باڑ اور سول ورک پر خرچ کیا جائے گا۔
ایکنک نے پانچ اگست 2020 کو اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم خود اس منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے کئی جائزہ اجلاسوں کی صدارت کر چکے ہیں۔

شیئر: