اپنی چھت اپنا گھر سکیم: وزیراعلیٰ ہاؤس کی ملازمہ کی ’دباؤ ڈالنے‘ کی کوشش
اپنی چھت اپنا گھر سکیم: وزیراعلیٰ ہاؤس کی ملازمہ کی ’دباؤ ڈالنے‘ کی کوشش
منگل 16 دسمبر 2025 16:37
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سوا لاکھ افراد کو قرض جاری ہو چکا ہے(فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ان دنوں کئی طرح کی ترقیاتی سکیمیں ہیں جن کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
ان میں سے ایک ’اپنی چھت اپنا گھر‘ سکیم بھی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے تحت اب تک 45 ہزار سے زائد گھر صوبہ بھر میں مکمل ہو چکے ہیں۔
اس سکیم کے حوالے سے اردو نیوز کے پاس مستند معلومات ہیں کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کی ایک ملازمہ نے سکیم کے مروجہ طریقہ کار کے ذریعے گھر بنانے کے لیے رقم حاصل نہ کر پانے کی وجہ سے ’سفارش‘ کے ذریعے رقم حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس حوالے سے جب پنجاب میں ہاؤسنگ کے وزیر بلال یاسین سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔
کیا وزیراعلیٰ ہاؤس کی ملازمہ نے رقم لینےکے لیے سفارش کی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر ہاؤسنگ کا کہنا تھا کہ ’اپنا چھت اپنا گھر سکیم جب لانچ کی گئی تو اس کے لیے کچھ بنیادی ضوابط رکھے گئے۔ جیسا کہ ایک قانون ہے کہ اگر آپ کے پاس زمین پر پہلے سے کچھ تعمیر شدہ ہے تو آپ اس سکیم کا حصہ نہیں بن سکتے۔ تو یہاں بھی معاملہ کچھ ایسا ہی تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’جس خاتون نے اپلائی کیا تھا، وہ وزیراعلیٰ آفس میں ملازمہ تھیں۔ تاہم گھر کے لیے رقم لینے کی ان کی درخواست اس ٹیم نے خارج کر دی جو موقعے پر پہنچ کر تمام ایس او پیز کی جانچ کرتی ہے۔ ان کا گھر بنا ہوا تھا وہ دوسری منزل بنانا چاہتی تھیں۔‘
بلال یاسین مزید بتاتے ہیں کہ ’ہمارے علم میں نہیں تھا کہ وہ درخواست دہندہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملازمہ ہیں۔ تاہم پھر ہمیں وزیراعلی ہاؤس سے کال آئی جس میں پوچھا گیا کہ یہ درخواست کیوں خارج ہوئی ہے تو ہم نے اس صورت حال کی دوبارہ جانچ کی۔‘
’جب ہم نے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا تو وہ خاتون کسی بھی طور پر اس سکیم کے زمرے میں نہیں آتی تھیں تو پھر ہم نے ایک رپورٹ بنا کر وزیراعلیٰ آفس کو بھیج دی اور بتایا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔‘
وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے بتایا کہ جس خاتون نے اپلائی کیا تھا، وہ وزیراعلیٰ آفس میں ملازمہ تھیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
کیا اس کے بعد وزیراعلیٰ آفس نے دوبارہ معاملے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی؟ اس سوال کے جواب میں بلال یاسین کا کہنا تھا کہ نہیں ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا۔ ’میرا خیال ہے ایسا ہو گا بھی نہیں کیونکہ ہم نے جو رپورٹ بھیجی تھی اس میں تمام ثبوت لگائے تھے۔‘
پنجاب میں ’اپنی چھت اپنا گھر سکیم‘ کے تحت حکومت پانچ لاکھ گھر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس سکیم کے تحت اگر کسی کے پاس ایک مرلے سے 10 مرلے تک زمین ہے اور گھر نہیں ہے تو حکومت اس کو بلاسود 15 لاکھ روپے قرض دے رہی ہے جو کہ جاری کے ہونے کے تین مہینے کے بعد 14 ہزار روپے ماہانہ قسط کی صورت میں واپس کرنا ہو گا اور یہ قسطیں نو برس پر محیط ہیں۔
تاہم وہ افراد جن کے پاس ایک سے زیادہ پلاٹ، یا پلاٹ پر پہلے سے کچھ تعمیر ہے تو وہ اس سکیم سے مستفید نہیں ہو سکتے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سوا لاکھ افراد کو قرض جاری ہو چکا ہے جبکہ 45 ہزار سے زائد گھر مکمل تعمیر ہو چکے ہیں۔