Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سارجنٹ گول کیپر کی طرح اُچھل کر بجٹ کی کتابیں کیچ کر رہے تھے

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس شروع ہوا تو سپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو دعوت خطاب دی مگر جونہی شہباز شریف نے مائیک سنبھالا حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور شور شرابہ شروع ہوگیا۔
لگتا تھا کہ حکومتی ارکان آج باقاعدہ تیاری کر کے آئے ہیں۔ انہوں نے سٹیل کی سیٹیاں اور لکڑی کے باجے بھی اٹھا رکھے تھے۔ بس پھر کیا تھا ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اپوزیشن ارکان نے شہباز شریف کے گرد حفاظتی گھیرا ڈال دیا۔

 

عام طور پر اس طرح کی ہنگامہ آرائی میں پارٹیوں کے جونیئر سطح کے رہنما شریک ہوتے ہیں مگر آج خلاف معمول وفاقی کابینہ کے سینیئر ارکان جن میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، شفقت محمود، شیریں مزاری، مراد سعید، شہزاد اکبر شامل تھے وہ بھی نعرے لگانے، ڈیسک پر بجٹ دستاویزات مار کر شور مچانے اور احتجاج میں شریک تھے۔  
سپیکر اسد قیصر نے معاملہ بگڑتے دیکھا تو اجلاس میں 20 منٹ کا وقفہ کر دیا مگر وقفے میں معاملات سدھرنے کے بجائے مزید بگڑ گئے اور ارکان ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔
بعد ازاں سپیکر قومی اسمبلی نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا کہ ’ایوان میں نازیبا گفتگو کرنے والے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو بدھ کے روز ایوان میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے ہنگامہ آرائی کی مکمل تحقیقات کرانے کا بھی اعلان کیا۔ 
اس دوران لیگی ارکان حکومتی ارکان کے احتجاج کی ویڈیو بنانا شروع ہوئے اور فوراً ہی ویڈیوز میڈیا سے شیئر بھی کر دیں جس میں اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے رکن علی نواز اعان انتہائی نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے نظر آئے۔
وقفے کے دوران شہباز شریف باہر آئے تو وہاں صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ اس ہنگامہ آرائی پر کچھ بولیں گے تو انہوں نے چلتے چلتے کہا کہ بول تو دیا اندر۔
اس کے تھوڑی دیر بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی ایوان سے باہر نکل کر پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں چلے گئے جہاں میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کب تک چلے گا تو انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ ’ جب تک سورج چاند رہے گا۔‘

شہباز شریف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان مسلسل نعرے بازی اور شور شرابہ کرتے رہے (فوٹو: قومی اسمبلی ٹوئٹر)

میں نے پوچھا کہ کیا بلاول کی تقریر میں بھی حکومت ایسا ہی احتجاج کرے گی تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
اس سوال پر کہ عام طور پر بجٹ سیشن میں حکومت ہنگامہ آرائی نہیں کرتی بلکہ بجٹ پاس کروانے اور تعمیری بحث پر توجہ دیتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری تو بڑی خواہش ہے کہ تعمیری بحث  ہو اور پارلیمنٹ ایسے چلے جیسے دور جدید کی پارلیمنٹس چلتی ہیں۔‘
’مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کے لیے اپوزیشن کو قاعدہ قانون طے کرنا پڑے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ حکومت کی طرف سے تقریر ہو تو اپوزیشن غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرے اور جب اپوزیشن کی تقریر ہو تو ہم ان کی تقریر آرام سے سنیں۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ ارکان کی طرف سے غیر پارلیمانی الفاظ اور گالیوں کا استعمال ہو رہا ہے کیا اس کی کوئی مثال ملتی ہے تو وفاقی وزیر بولے کہ ’یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں جھگڑا ہوتا ہے تو جھگڑا ہوتا ہے۔‘

ارکان نے دستاویزات ایک دوسرے کی طرف اچھالنا شروع کیں تو سارجنٹس نے کوشش کی کہ وہ کسی کو نہ لگیں (فائل فوٹو: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ)

’اس اسمبلی میں تو ایک سپیکر کرسی لگنے سے جان سے چلا گیا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن رہنماوں کو تقریر نہیں کرنے دی جائے گی جب تک وہ تحریری طور پر یقین دہانی نہ کرائیں کہ حکومتی ارکان کی تقاریر وہ آرام سے سنیں گے۔‘
اس کے بعد مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب سے ہماری بات ہوئی اور ان سے پوچھا کہ آپ تحریری یقین دہانی کیوں نہیں کرا دیتے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن لیڈر تقریر کریں گے اور وہ کل بھی جاری رہے گی اور کس بات کی تحریری یقین دہانی کرائیں، اپوزیشن کا تو کام ہے احتجاج کرنا مگر آج تک ایسا نہیں ہوا کہ حکومت خود بجٹ میں ہنگامہ آرائی یا احتجاج کرے۔‘
وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو شہباز شریف نے ایک بار پھر شور شرابے کے باوجود تقریر شروع کر دی۔ ان کے گرد ن لیگی ارکان جمع تھے جب کہ سپیکر کی ہدایت پر اس بار حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان ایوان کے اندر سکیورٹی پر مامور سارجنٹس نے دونوں اطراف کو علیحدہ کرنے کے لیے درمیان میں حفاظتی حصار قائم کر رکھا تھا۔

اردو نیوز نے فواد چوہدری سے استفسار کیا کہ کیا بلاول کی تقریر میں بھی ایسا ہی احتجاج ہوگا تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا (فوٹو: اے پی)

تاہم پھر بھی حکومتی ارکان نے شدید نعرے بازی کا آغاز کر دیا۔ جو ارکان سیٹیاں لے کر آئے تھے وہ باجماعت سیٹیاں بجانا شروع ہو گئے۔
پریس گیلری میں بیٹھے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ’یوں لگ رہا ہے جیسے آج یہاں فٹ بال میچ ہو رہا ہے اور ریفری سیٹی پر سیٹی بجا رہا ہے۔‘ دوسری طرف اپوزیشن ارکان نے بھی نعرے بازی اور جوابی شور شروع کر دیا۔
تھوڑی دیر تو شدید شور شرابے میں تقریر جاری رہی تاہم کراچی سے پی ٹی آئی کے ایم این اے فہیم خان کسی بات بڑھک اٹھے اور سارجنٹس کا گھیرا توڑ کر اپوزیشن سے لڑنے بھاگے۔ متعدد سارجنٹس نے مشکل سے انہیں قابو کیا۔ دوسری طرف اپوزیشن ارکان ان کو اپنی طرف بلا کر مزید اشتعال دلاتے رہے۔
اس دوران وزرا بھی نعرے بازی میں شریک رہے، تاہم کچھ دیر بعد معاملات سارجنٹس کے قابو سے باہر ہو گئے اور ارکان نے ایک دوسرے پر بجٹ کی کاپیاں پھینکنا شروع کر دیں۔
بجٹ دستاویزات عام ڈاکومنٹس کی طرح ہلکی پھلکی نہیں ہوتیں اور کئی کتابیں کلو کلو تک وزنی ہوتی ہیں۔

اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے پر مسلسل حملہ آور ہوتے رہے (فوٹو: سکرین گریب)

دونوں طرف کے ارکان نے جب دستاویزات ایک دوسرے کی طرف اچھالنا شروع کیں تو سارجنٹس نے پوری کوشش کی کہ وہ نہ اپوزیشن ارکان کو لگیں نہ حکومتی ارکان کو۔
اس دوران ایک لمحے کو واقعی میں ایوان فٹ بال کے میدان کا منظر پیش کرنے لگا۔ ایک طرف ارکان اچھل اچھل کر دوسروں پر بھاری دستاویزات پھینک رہے تھے تو دوسری طرف سارجنٹس اچھل اچھل کر گول کیپر کی طرح ان دستاویزات کو ہدف تک پہنچنے سے روک رہے تھے۔
منگل کے روز اس افسوسناک اجلاس کے ہیرو یہی سکیورٹی اہلکار تھے جن میں سے ایک آصف کیانی کو سر پر بھاری کتاب لگی تو وہ زخمی ہو گئے اور دوسرے ساتھیوں نے پکڑ کر انہیں ایوان سے باہر نکالا۔
اس دوران سپیکر قومی اسمبلی کی ایک نہ چلی اور جانے کب وہ اجلاس ملتوی کرکے ایوان سے نکل گئے مگر ارکان اجلاس کے اندر ہی لڑائی میں مصروف رہے۔

ہنگامہ آرائی کے دوران بجٹ دستاویزات لگنے سے پی ٹی آئی کی رکن ملیکہ بخاری زخمی ہوگئیں (فوٹو: سکرین گریب)

اس دوران کئی حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو کتابیں لگ بھی گئیں جن میں پہلی لائن سے ویڈیو بنانے والی پی ٹی آٗئی کی رکن ملیکہ بخاری، مراد سعید اور بطور مشیر اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے والے شہزاد اکبر شامل تھے۔
کراچی سے پی ٹی آئی کے فہیم خان کو بھی دستاویزات ہاتھ پر لگیں۔ اپوزیشن کے محسن شاہنواز سمیت کم ازکم پانچ ارکان کو دستاویزات کے بنڈل لگے۔
ایک بنڈل شہباز شریف کے کان کے قریب سے گزر گیا۔ پھر ارکان انہیں ایوان سے باہر لے گئے۔
پورے اسمبلی ہال میں گلابی اور سفید کاغذات بکھرے پڑے تھے۔ پتا نہیں ان کی چھپائی پر کتنا خرچ آیا تھا مگر چھاپنے والوں نے شاید سوچا ہو گا کہ اسمبلی ارکان ان اعداد و شمار کا بغور جائزہ لے کر پالیسی بنائیں گے مگر آج وہ کاغذات ہتھیار بن چکے تھے۔ موبائل گیم اینگری برڈ کے کھلاڑی کی طرح ارکان کتابوں سے نشانے لے رہے تھے۔
اس موقع پر پریس گیلری کے تمام صحافی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ دی نیشن کے جاوید الرحمان کا کہنا تھا کہ’ وہ 2003 سے گذشتہ چار اسمبلیوں میں کم سے کم 17 بجٹ اجلاسوں میں شریک ہو چکے ہیں مگر کبھی اتنا ہنگامہ خیز بجٹ اجلاس نہیں دیکھا۔

شیئر: