Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طالبان کی خواتین کے اکیلے گھر سے نکلنے، مردوں کے شیو کرنے پر پابندی

طالبان نے خواتین کے باہر نکلنے کے حوالے سے احکامات جاری کیے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
طالبان نے شمالی افغانستان میں اضلاع پر قبضے کے بعد مقامی مساجد کے اماموں کو مراسلے جاری کیے ہیں جن میں خواتین اور دیگر شہریوں کے طرز زندگی سے متعلق احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی صوبہ تاخار کے ضلع کلگگان کے رہائشی صیفت اللہ نے بتایا کہ ’طالبان کی جانب سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ محرم کے بغیر خواتین بازار نہیں جا سکتیں جبکہ مردوں کو بھی داڑھی منڈوانے سے منع کیا گیا ہے۔‘
25 سالہ صیفت اللہ کا کہنا تھا کہ ’طالبان نے سگریٹ نوشی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، خلاف ورزی کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔‘
افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک بھر کے متعدد اضلاع کے علاوہ تجارتی راہدریوں کا قبضہ حاصل کر لیا ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
افغانستان کے کچھ علاقوں میں طالبان ایک مرتبہ پھر سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں جن کے تحت ماضی میں انہوں نے شہریوں بالخصوص خواتین کے بنیادی حقوق سلب کیے تھے۔
گذشتہ ماہ طالبان نے تاجکستان کے ساتھ شیر خان بندر کی تجارتی راہداری پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔
افغان شہری ساجدہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’شیر خان بندر پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے خواتین کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔‘

افغان خواتین نے فوج میں بھی بڑی تعداد میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

قبضے کے وقت ساجدہ ایک مقامی فیکٹری میں کام کرتی تھیں۔
ان کے مطابق ’بہت ساری خواتین اور نوجوان لڑکیاں کڑھائی، درزی اور جوتے بنانے کا کام کر رہی تھیں۔ طالبان کے احکامات نے ہمیں خوفزدہ کر دیا ہے۔‘
ساجدہ نے بتایا کہ ’وہ طالبان کے قبضے کے بعد قریبی صوبہ قندوز کی جانب نقل مکانی کر گئی ہیں۔‘
’طالبان کے زیر تسلط علاقوں میں ہم کبھی بھی کام نہیں کر سکیں گی۔ اس لیے ہم (جگہ ہی) چھوڑ گئی ہیں۔‘
طالبان کے سنہ 1996 سے 2001 تک کے تقریباً چھ سالہ دور حکومت کے دوران خواتین کو محرم کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی، بچیوں کے سکول جانے پر پابندی تھی، جبکہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات کا مرتکب ٹھہرانے پر سنگساری کی سزا دی جاتی تھی۔
طالبان کے دور میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ آزادی حاصل تھی تاہم انہیں بھی داڑھی منڈوانے کی اجازت نہیں تھی، نماز نہ پڑھنے پر مارا جاتا تھا جبکہ روایتی لباس پہننے کی ہدایات تھیں۔
طالبان کے احکامات کے بغیر ہی افغانستان کے دیہی علاقوں میں اسی طرح کے قواعد و ضوابط روزمرہ کی زندگی میں اپنائے جاتے ہیں، اس کے باوجود طالبان شہروں میں بھی ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہے ہیں۔
حال ہی میں طالبان کے ثقافتی کمیشن کی جانب سے مبینہ طور پر احکامات جاری کیے گئے تھے جس میں 15 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں اور 45 سال سے کم عمر کی بیواؤں کی طالبان جنگجوؤں سے شادی کرنے کا کہا گیا تھا۔

 طالبان نے مردوں کے داڑھی منڈوانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ فوٹو اے ایف پی

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم متلعقہ اضلاع کے رہائشیوں نے زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے واقعات حقیقت پر مبنی ہیں۔
رہائشی ناذر محمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ تاجکستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ ضلع یاوان پر قبضے کے بعد طالبان ایک مقامی مسجد میں اکھٹے ہوئے تھے۔
‘طالبان کے کمانڈروں نے ہمیں کہا کہ رات کے وقت کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے گا، اور افغانستان کے جھنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص بالخصوص نوجوان سرخ اور سبز رنگ کے کپڑے نہیں پہنیں گے۔‘
ناذر محمد نے مزید بتایا کہ طالبان نے پگڑی پہننے کا کہا ہے جبکہ شیو کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
’چھٹی جماعت سے آگے کی بچیوں کو کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا گیا ہے۔‘
دوسری جانب طالبان نے انسانی حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی بھی کروائی ہے تاہم صرف اسلامی روایات کے تحت جن کی دیگر مسلم ممالک میں مختلف انداز میں تشریح کی جاتی ہے۔

شیئر: