Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یونیورسٹی میں پڑھانے کے بعد پارٹ ٹائم اوبر چلانے والا سعودی پروفیسر

پروفیسر خوابوں کا گھر حاصل کرنا چاہتا ہے- (فوٹو: المرصد)
امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے والا سعودی شہری جدہ کی ایک یونیورسٹی میں پڑھانے کے بعد ’اوبر ٹیکسی‘ چلا رہا ہے- 
سبق ویب سائٹ کے مطابق المدینہ اخبار کے کالم نگار ڈاکٹر عبداللہ صادق دحلان نے اس بات کا انکشاف اپنے خصوصی کالم میں کیا ہے- 
دحلان نے بتایا کہ وہ جدہ کے ایک ہسپتال گئے ہوئے تھے- پارکنگ میں ڈرائیور کو چھوڑ کر گئے تھے- واپسی میں ڈرائیور موقع سے غائب تھا انتظار کیا- اسی دوران اپنی زندگی میں پہلی بار اوبر طلب کی- چند منٹ بعد اوبرپہنچی- ڈرائیور حیران کن پوشاک پہنے ہوئے تھا- اعلی درجے کے اخلاق اور شاندار تہذیب سے آراستہ لگ رہا تھا- ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے گپ شپ شروع ہوگئی- میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ کاش ہسپتال سے مکہ مکرمہ کا سفر ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا تاکہ اوبر ڈرائیور کے ساتھ اعلی درجے کے مکالمے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکوں-
دحلان نے کہا کہ میں نے محسوس کیا کہ اوبر کا ڈرائیور کوئی عام شخص نہیں بلکہ منفرد شخصیت کا مالک ہے-
دحلان نے بتایا کہ شدید اصرار پر اس نے اپنا تعارف کرایا- مگر پہلے وعدہ لے لیا کہ میں اس کا نام ریکارڈ پر نہیں لاؤں گا- پتہ چلا کہ وہ امریکہ کی ایک  یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ ہے اور جدہ کی ایک یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے منسلک ہے- وہ روزانہ پانچ گھنٹے اوبر چلاتا ہے- اس کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ وہ اپنے خوابوں کا گھر حاصل کرنا چاہتا ہے جس کی ماہانہ قسط 15 ہزار ہے- اس کا کہنا ہے کہ وہ پورے ہفتے یہ کام کرتا ہے اور اس سے روزانہ پانچ سو ریال اوسطا کما لیتا ہے- 
دحلان نے بتایا کہ میں نے نوجوانی کے زمانے میں خوداعتمادی کا جو سبق سیکھا تھا اسے اعلی تعلیم یافتہ سعودی نوجوان اپنی زندگی میں نافذ کیے ہوئے تھا-
اوبر کے سعودی ڈرائیور کا قصہ سب لوگوں کے لیے  بہت بڑا سبق رکھتا ہے-
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: