Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیوم سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے خیر مقدم کےلیے 2024 تک تیار ہو گا

پرجیکٹ کے سی ای او کا کہنا ہے کہ اب ہم عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں( فوٹو ٹوئٹر)
نیوم پروجیکٹ کے سی ای او نظمی النصر نے اعلان کیا ہے کہ نیوم شہر سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے استقبال کےلیے 2024 تک تیار ہو گا۔
عرب نیوز کے مطابق اشراق کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ’ ہم نے وژن کو حکمت عملی میں تبدیل کرنے میں دو سال صرف کیے کیونکہ اس حکمت عملی کا تعلق نیوم کے تمام شعبوں سے ہے‘۔
نظمی النصر نے کہا کہ ’ہم نے گزشتہ سال حکمت عملی مکمل کی پھر منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی جانب بڑھے اور اب ہم عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔‘ 
نیوم سعودی عرب کے شمال مغرب میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے اور یہ شہر قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر مکمل طور پر انحصار کرے گا۔
نیوم سٹی منصوبہ کیا ہے ؟
نیوم سٹی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےوژن 2030 کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا اعلان 24 اکتوبر 2017 میں کیا گیا تھا۔ اس کا کل رقبہ 26 ہزار 500 مربع کلومیٹر ہو گا۔ اس میں 468 کلومیٹر بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ کا ساحلی علاقہ شامل ہے۔
 نیوم سٹی تین براعظموں کو ایک دوسرے سے جوڑے گا۔ اس میں سعودی عرب کے علاوہ اردن اور مصر کے علاقے شامل ہوں گے۔
نیوم خصوصی سرمایہ کاری کے نوشعبوں کا احاطہ کرے گا۔ ان میں توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک، سائنس،میڈیا، تفریح اور معیشت کے دیگر شعبے شامل ہیں۔ مستقبل میں سعودی عرب کی 10 فیصد عالمی تجارت نیوم کے راستے ہی ہوگی۔

نیوم پروجیکٹ کا ایک حصہ خلیج نیوم ہے اور سب سے پہلے اسے بسایا جارہا ہے(فوٹو ٹوئٹر)

نیوم سٹی پروجیکٹ کا ایک حصہ خلیج نیوم ہے اور سب سے پہلے اسے بسایا جارہا ہے۔
 یہ چار نکاتی منصوبہ ہے جہاں مخصوص طرز معاشرت کا تجربہ ہوگا۔ خاندان کے تمام افراد مثالی اور معیاری زندگی گزاریں گے۔ اقتصادی اہداف حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
 نیوم شہر کے حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ نیوم شہر اور دیگر شہروں میں وہی فرق ہے جو ایک روایتی قسم کے موبائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ موبائل میں ہوتا ہے۔

شیئر: