Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کا وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے ’گلوبل اننوویشن ہب‘ کی حمایت

سعودی عرب نے مستقبل میں ممکنہ وبائی امراض کے خلاف تیاری کے لیے سرمایہ کاری کی حمایت کی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب کے نئے وزیر صحت فہد بن عبدالرحمان الجلاجل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کورونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ کے لیے گلوبل اننوویشن ہب میں مدد اور مستقبل میں ممکنہ وبائی امراض کے خلاف تیاری کے لیے سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجسنی ایس پی اے کے مطابق مملکت کی یہ حکمت عملی حال ہی میں جی 20 کے اجلاس میں وزرائے صحت کے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں عالمی سطح پر صحت سے متعلق کوششوں کو منظم کرنے پر بات چیت ہوئی۔
سعودی وزیر صحت نے ایس پی اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان کی سربراہی میں مملکت نے ’نمایاں شراکت داری‘ کی ہے اور ’عالمی استحکام، اقتصادی توازن اور متعدد رکاوٹوں پر قابو پانے کی حمایت کی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مملکت نے گلوبل اننوویشن ہب کے قیام اور اعلیٰ سطح کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ برس جی 20 نے ایک سال کا ڈیجیٹل ہیلتھ ورکنگ گروپ قائم کیا تھا۔
سعودی وزیر صحت کے مطابق وزرائے صحت نے اپنے تجربات شیئر کیے اور عالمی سطح پر معلومات شریک کرنے اور صحت کے شعبوں میں  کمی پوری کرنے کے لیے موثر نظام صحت کی ضرورت سے متعلق بات چیت ہوئی۔
وبائی امراض کی تیاری کی سطح کو بڑھانا، وبائی امراض کے حل کے لیے ڈیجیٹل حل کی اہمیت، نظام صحت کو بہتر بنانا اور اینٹی بائیوٹک کے خلاف جراثیم سے نمٹنے جیسے اہم نکات پر جی 20 کی پریزیڈنسی اور سعودی عرب کے مابین بات چیت ہو رہی ہے۔
وزیر صحت کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران سال کے اہم موضوعات میں سے یاک ذہنی صحت کا بھی ہے اور اس سلسلے میں مملکت عالمی ادارہ صحت کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاض سمٹ کے اہم ترین موضوعات پر 30 اکتوبر کو شروع ہونے والے اٹلی کے سمٹ میں بھی بات چیت ہوگی۔
اس میں ویکسین تک رسائی، علاج اور تشخیص کے آلات، اور تمام لوگوں کو صحت تک رسائی کے لیے سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہے۔

شیئر: