Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہیپی برتھ ڈے شاہ رخ خان: ’راج ہو یا راہل، ہمارے دلوں کے بادشاہ‘

شاہ رخ خان نے اپنے بالی وڈ کے سفر کا آغاز 1992 میں فلم ’دیوانہ‘ سے کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بالی وڈ کے ’بادشاہ‘ کے نام سے مشہور اداکار شاہ رخ خان آج اپنی 56ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور ان کے بڑے دن پر انڈیا کی کئی شخصیات انہیں نیک تمناؤں کے پیغامات دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
شاہ رخ خان کے ستارے پچھلے تین دہائیوں سے عروج پر تھے لیکن یہ سال ان کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا اور اس کی ایک بڑے وجہ ان کے صاحبزادے آریان خان کی ایک منشیات کیس میں گرفتاری تھی۔
تاہم آریان خان سنیچر کو تین ہفتے جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہوئے۔
ان تین ہفتوں میں جہاں شاہ رخ خان کے حمایتی ان کے پشت پر کھڑے رہے وہیں ان کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت بھی پھیلائی جاتی رہی۔
لیکن ان کی سالگرہ پر سوشل میڈیا پر صارفین کے پیغامات دیکھ کر نہیں لگتا کہ نفرت پھیلانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ماضی کی مشہور ترین اداکارہ سمی گریوال نے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’ہیپی پرتھ ڈے ڈیئر شاہ رخ خان! تم نے جس طرح طوفانوں اور کامیابی دونوں کا سامنا کیا ہے وہ تمھارے کردار اور وقار کا ثبوت ہے۔‘
انہوں شاہ رخ خان کو ’لیجنڈ‘ قرار دیتے ہوئے انہیں دعا دی کہ ہمیشہ جگمگاتے رہو۔‘
انڈین کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی دنیش کارتک نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’آپ ان کئی صفتیں بیان کرسکتے ہیں لیکن یہ تمام صفات کم پڑجائیں گی یہ بتانے کے لیے کہ وہ کتنے شفیق اور خیال رکھنے والے ہیں۔‘
ان کی اپنی انڈین پریمیئر لیگ کی فرینچائز کلکتہ نائٹ رائڈرز نے بھی انہیں منفرد انداز میں سالگرہ کی مبارکباد دی۔
’راج ہو یا راہل، وہ ہمارے دلوں کے غیر متنازع بادشاہ ہیں۔‘

دنیش موریا نامی صارف نے ان کو جنم دن کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
 صحافی دنیش موریا نے لکھا کہ ’شکریہ ہمیں خوابوں پر یقین سکھانے کے لیے۔‘
انڈین کانگریس پارٹی سے منسلک سپریا شریناتے نے شاہ رخ خان کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم سب کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا شکریہ۔‘
’آپ درست کہہ رہے ہیں، کوئی دوسرا شاہ رخ خان کبھی نہیں آ سکتا۔‘
ویڈیو میں پروگرام کی اینکر شاہ رخ خان سے پوچھتی ہیں کہ ’ہمیں اپنا دوسرا شاہ رخ خان کہاں سے ملے گا؟‘
بالی وڈ کے بادشاہ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ تو نہیں ملے گا۔ میں آخری ہوں، مجھے چھو لیں، محسوس کرلو، سونگھ لو، اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔‘
شاہ رخ خان نے اپنے بالی وڈ کے سفر کا آغاز 1992 میں فلم ’دیوانہ‘ سے کیا اور اس کے بعد انہوں نے 1993 میں ’بازیگر‘ اور 1994 میں ’انجام‘ جیسی فلموں میں منفی کردارادا کیے۔
ان کی پہلی کامیاب ترین فلم ’دل والے دلہنیا‘ لے جائیں گے، 1995 میں ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے رومانوی کردار ادا کیا اور اس فلم میں ہیروئن کاجول تھیں۔
اس کے بعد 1997 میں ان کی مادھوری ڈکشٹ اور کرشمہ کپور کے ساتھ ایک اور ہٹ فلم ’دل تو پاگل ہے‘ ریلیز ہوئی اور پھر 1998 میں ان کی کاجول اور رانی مکھرجی کے ساتھ فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ ریلیز ہوئی۔
ان فلموں نے ان کو بالی وڈ کے سب سے بڑا رومانوی ہیرو بنا دیا اور یہی ان کی شناخت بن گئی۔ لیکن شاہ رخ خان نے رومانوی فلموں کے علاوہ بھی مختلف فلموں میں کام کیا جیسے کہ ’ڈان 1‘، ’ڈان 2‘ اور ’رئیس‘ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ وہ کامیڈی ہیرو کے کردار میں بھی کئی فلموں میں نظر آئے جن میں ’بادشاہ‘ اور ’ڈپلیکیٹ‘ شامل ہیں۔

شیئر: