Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

طویل عرصے سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے سیاسی نظام کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
تہران میں شیعہ عالمِ دین اور طویل عرصے سے سیاسی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ یہ تقرری اُن کے والد، آیت اللہ علی خامنہ ای، کے قتل کے بعد عمل میں آئی۔
عرب نیوز کے مطابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ ترین سیاسی و مذہبی منصب پر اُن کی تعیناتی اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ حکمران خاندان کا کوئی فرد براہِ راست ریاست کی سربراہی تک پہنچا ہے۔
اس فیصلے کو بعض مبصرین نے حیران کن قرار دیا ہے، کیونکہ اسے بادشاہت سے مماثلت قرار دینے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا۔ ایران میں اسلامی حکومت 1979 میں شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہوئی تھی، اور اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سپریم لیڈر کا انتخاب مذہبی مقام اور ثابت شدہ قیادت کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ خاندانی وراثت کے طور پر۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دو سال قبل مجلسِ خبرگان کے ایک رکن نے بتایا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو مستقبل کی قیادت کے لیے امیدوار بنانے کے مخالف تھے، تاہم انہوں نے اس موضوع پر کبھی کھل کر کوئی بیان نہیں دیا۔
طویل عرصے سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے سیاسی نظام کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ پس پردہ رہ کر اہم کردار ادا کرتے رہے اور طاقتور سکیورٹی اداروں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب اسلامی، سے ان کے گہرے تعلقات رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی سفارتی کیبلز، جنہیں 2000 کی دہائی کے آخر میں وکی لیکس نے شائع کیا تھا، میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ’روبس کے پیچھے طاقت‘ قرار دیا گیا تھا اور انہیں ایرانی نظام میں ایک ’اہم اور مضبوط‘ شخصیت کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔
ابتدائی زندگی
8  ستمبر 1969 کو شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ کے ایک ہنگامہ خیز دور میں پروان چڑھے۔ اُن کے والد 1979 کے ایرانی انقلاب کے مرکزی کرداروں میں شامل تھے، جس نے شاہ محمد رضا پہلوی کو اقتدار سے بےدخل کرکے اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔
بچپن میں ہی مجتبیٰ نے ایران کے سیاسی نظام میں آنے والی بڑی تبدیلیوں اور اپنے والد کے انقلاب میں تیزی سے اُبھرتے ہوئے کردار کا مشاہدہ کیا۔ خاندانِ خامنہ ای اپنی نسلی نسبت امام حسین سے جوڑتا ہے، جو شیعہ مذہبی طبقے میں غیر معمولی احترام کا حامل سلسلہ نسب سمجھا جاتا ہے۔

1980 کی دہائی کے آخر میں ایران عراق جنگ کے آخری برسوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی (فوٹو: اے ایف پی)

مجتبیٰ نے ابتدائی تعلیم شمال مغربی شہروں سردشت اور مہاباد میں حاصل کی اور بعد ازاں تہران کے علوی ہائی سکول سے گریجویشن کیا۔ سکول کے بعد انہوں نے اسلامی تعلیمات کا باقاعدہ آغاز کیا اور اپنے والد سمیت کئی جید علما جیسے آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی سے درس لیا۔
بعدازاں وہ قم کے حوزہ علمیہ سے وابستہ ہوگئے، جو شیعہ علمی مراکز میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اور وہیں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔
مکمل طور پر مذہبی زندگی اختیار کرنے سے قبل مجتبیٰ نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ایران عراق جنگ کے آخری برسوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی اور حبیب بن مظاہر بٹالین کے رکن کے طور پر مختلف آپریشنز میں حصہ لیا۔
1999 میں انہوں نے قدامت پسند سیاست دان غلام علی حداد عادل کی بیٹی زہرا حداد عادل سے شادی کی۔ دونوں کے تین بچے تھے۔
ایرانی حکومتی بیانات کے مطابق 2026 میں خطے کی کشیدگی کے دوران امریکی۔اسرائیلی حملوں میں مجتبیٰ کی اہلیہ، والدین اور ایک بیٹا ہلاک ہوئے۔
سیاسی اثر و رسوخ
1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے آغاز تک مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر کے دفتر کے اندرونی حلقے میں ایک موثر شخصیت کے طور پر نمایاں ہونے لگے۔ 2009 کے صدارتی انتخابی بحران میں ان کا کردار خاص طور پر سامنے آیا، جہاں بی بی سی اور نیویارک ٹائمز سمیت دیگر رپورٹس کے مطابق انہوں نے محمود احمدی نژاد کی متنازعہ دوبارہ کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور بعدازاں پیدا ہونے والی احتجاجی تحریک کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

2019  میں امریکہ نے مجتبیٰ پر پابندیاں عائد کیں اور الزام لگایا کہ وہ سپریم لیڈر کی جانب سے کام کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ناقدین کا الزام تھا کہ مجتبیٰ کے بسیج ملیشیا سے قریبی تعلقات تھے، جنہیں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں یعنی ’گرین موومنٹ‘ کے کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اُس وقت کے نائب وزیرِ داخلہ مصطفیٰ تاج زادہ نے نتائج کو ’انتخابی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔ انہیں سات سال قید کی سزا ہوئی، جسے انہوں نے ’مجتبیٰ خامنہ ای کی براہِ راست خواہش‘ کا نتیجہ قرار دیا۔
2009  کے انتخابات کے بعد اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کو نظربند کردیا گیا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق فروری 2012 میں مجتبیٰ نے موسوی سے ملاقات کر کے ان سے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اگرچہ وہ شاذونادر ہی عوام کے سامنے آئے یا تقاریر کیں، لیکن ریاستی سلامتی اداروں میں ان کے اثر نے انہیں ملکی طاقت کے ڈھانچے کا مرکزی کردار بنا دیا۔
2019  میں امریکہ نے مجتبیٰ پر پابندیاں عائد کیں اور الزام لگایا کہ وہ سپریم لیڈر کی جانب سے کام کرتے ہیں اور ایرانی سلامتی نظام و علاقائی نیٹ ورکس سے گہرے روابط رکھتے ہیں۔
سیاسی طور پر انہیں ایران کے انتہائی قدامت پسند طبقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے پیٹرک کلاوسن کے مطابق مجتبیٰ ممکنہ طور پر ’مزاحمتی استحکام‘ کی حکمتِ عملی اختیار کریں گے، جس میں علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے پاسدارانِ انقلاب پر زیادہ انحصار شامل ہوگا۔

ان کے والد، علی خامنہ ای، کو بھی 1989 میں سپریم لیڈر بننے کے فوراً بعد ’آیت اللہ‘ کا درجہ دیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

کلاوسن نے مزید کہا کہ اپنے اہلِ خانہ کی ہلاکت سمیت موجودہ حالات کے باعث وہ امریکہ کے حوالے سے زیادہ سخت گیر مؤقف اپنا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’وہ بیرونی خطرات کو وجودی نوعیت کا مسئلہ سمجھ سکتے ہیں، ریاستی طاقت اور مزاحمت پر زیادہ زور دے سکتے ہیں، اور اپنے والد کی نسبت امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی کم خواہش دکھا سکتے ہیں۔‘
علمائے دین کی تنقید
مجتبیٰ ایک درمیانے درجے کے عالمِ دین ہیں، جو انہیں نئے سپریم لیڈر کے طور پر قبول کیے جانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق انتخاب سے قبل ہی ایران میں بعض میڈیا اداروں اور بااختیار حلقوں نے انہیں ’آیت اللہ‘ کہنا شروع کردیا تھا، جسے بعض مبصرین ان کے مذہبی رتبے کو بلند کرنے کی مہم قرار دیتے ہیں۔
ایرانی نظام میں ’آیت اللہ‘ کا رتبہ سپریم لیڈر کے ممکنہ امیدوار کے لیے ایک بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد، علی خامنہ ای، کو بھی 1989 میں سپریم لیڈر بننے کے فوراً بعد ’آیت اللہ‘ کا درجہ دیا گیا تھا۔

اثاثوں میں لندن اور دبئی میں قیمتی جائیدادیں، یورپ میں شپنگ، بینکاری تعلقات اور ہاسپیٹلٹی کاروباروں سے وابستہ مفادات شامل تھے (فوٹو: اے ایف پی)

دولت و اثاثے
جنوری 2026 میں بلومبرگ کی ایک سالہ تحقیق میں انکشاف ہوا کہ مجتبیٰ خامنہ ای بیرونِ ملک اثاثے رکھنے اور منتقل کرنے کے لیے قائم ایک آف شور مالیاتی نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔
ان اثاثوں میں لندن اور دبئی میں قیمتی جائیدادیں، یورپ میں شپنگ، بینکاری تعلقات اور ہاسپیٹلٹی کاروباروں سے وابستہ مفادات شامل تھے۔
تحقیق کے مطابق یہ اثاثے براہِ راست ان کے نام پر نہ ہو کر مختلف ثالثوں اور کاروباری ڈھانچوں کے ذریعے منظم کیے گئے تھے، جن میں نمایاں تاجر علی انصاری سے منسلک ادارے بھی شامل تھے۔ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی نگرانی کے بعد ان میں سے کچھ اثاثوں کو فروخت یا ازسرنو ترتیب دیا گیا۔

شیئر: