Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روایتی اور علاقائی موسیقی 'شیلات' میں حیرت انگیز مقبولیت

شیلات آرٹ اور موسیقی کو جو چیز خاص بناتی ہے وہ اس کی دھن ہے۔(فوٹو عرب نیوز)
علاقائی موسیقی میں خاص پہچان رکھنے والے شیلات فوک میوزک نے کافی شہرت اور مقبولیت حاصل کر لی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق  میوزک سٹریمنگ سروس سپوٹیفائی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق میوزک کی یہ قسم سعودی عرب سے باہر سنی جانے والی سب سے زیادہ عام اور مقبول دھنوں میں سے ایک ہے۔

مشہور ترین شیلات گلوکار کے ایک ہٹ گانے پر 152ملین ویوز ہیں۔ (فوٹو سوشل میڈیا)

اپنے ایک انٹرویو میں ڈیجیٹل ٹیلنٹ ایجنسی الفان گروپ کے نیٹ ورک نائب صدر ماجد العزم نے اپنے سامعین کی رائے شئیر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ شاعری کی دنیا میں ایک بہت ہی مقامی اور روایتی قسم کی موسیقی ہوا کرتی تھی۔
اس خاص روایتی موسیقی کو سعودی عرب، یمن اور جی سی سی کے کچھ ممالک میں ایک قبائلی طرز کی سی پہچان حاصل تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے انقلاب کے بعد سے ہی شیلت میوزک یوٹیوب پر وائرل ہونا شروع ہوگیا تھا۔
اس شہرت کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ اس میوزک میں دم ہے کیونکہ سامعین اسے بہت زیادہ پسند کر رہے تھے۔
العزم نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس طرز کے گانے قبائل کی شاعری اور موسیقی کے آلات کے ساتھ بدل گئے۔
سپوٹیفائی کے مطابق موسیقی کا یہ انداز یہاں پر روایتی طور پر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے سننے والے سرفہرست ہیں۔

خاص روایتی موسیقی قبائلی طرز کی ایک منفرد پہچان مانی جاتی ہے۔ (فوٹو ٹوئٹر)

العزم کا مزید کہنا ہے کہ اب ٹک ٹاک اور شارٹ ویڈیو فارمز کے ساتھ شیلات ان ایپس کی ایک بہت بڑی ساؤنڈ لائبریری کی زینت بن رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت سپوٹیفائی کے 80 فیصد سامعین ایسے ہیں جو گیمنگ کے دوران شیلات میوزک سنتے ہیں۔
العزم اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ فورٹ نائٹ جیسی دلچسپ گیمز کھیلتے ہیں ان کو گیم کے اندر بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد کرنے کے لیے ایک حوصلہ افزا ساؤنڈ ٹریک کی ضرورت ہوتی ہے۔
فہد بن فضلا سعودی عرب کے مشہور ترین شیلات گلوکاروں میں سے ایک ہیں، ان کے یوٹیوب پر صرف ایک ہٹ گانے پر 152ملین ویوز ہیں۔
انہوں نے بتایا ہے کہ شیلات آرٹ کی ایک بہترین شکل ہے اور جو چیز اسے خاص بناتی ہے وہ اس کی دھن ہے۔
مشہور لوک گلوکار نے بتایا کہ میں شاعری میں جو الفاظ گاتا ہوں وہ  نہ صرف سعودیوں کے لیے بلکہ لیبیا، شام، اردن اور دیگر عرب ممالک میں موسیقی کے شائقین کے لیے بھی سمجھنے میں آسان ہیں۔
 

شیئر: