Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا امریکیوں کی معاشی تکالیف سے بڑھ کر ہے: صدر ٹرمپ

امریکہ میں اپریل کے دوران مہنگائی میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانا امریکیوں کی معاشی تکلیف سے بڑھ کر ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیجنگ روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی فیصلہ سازی میں امریکی شہریوں کے لیے مالی جدوجہد شامل نہیں بلکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ تہران کے جوہری پروگرام کو روکنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
ایک رپورٹر کی جانب سے پوچھا گیا کہ اقتصادی صوت حال کس حد تک انہیں معاہدے کی طرف لے جا رہی ہے؟
اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’تھوڑی سی بھی نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے صرف ایک ہی چیز اہمیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، میں امریکیوں کے مالی معاملات کے بارے میں نہیں سوچتا۔‘
صدر ٹرمپ کے اس تبصرے پر ان مصرین کی جانب سے تنقید سامنے کا امکان ہے جن کا خیال ہے کہ حکومت کو جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے ساتھ معاشی معاملات میں بھی توازن قائم رکھنا چاہیے اور یہ چیز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حتمی ذمہ داری امریکی شہریوں کی سلامتی و تحفظ ہے، اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ایرانیوں کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، اگر ان کے پاس یہ ہوں گے تو امریکیوں کے لیے خطرہ ہو گا۔
اس وقت صدر ٹرمپ ساتھی ریپبلکنز کی جانب سے دباؤ میں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے بڑھتے معاشی مسائل عوامی سطح پر ردعمل کو جنم دے سکتی ہے جس کے نتیجے میں اسے ممکنہ طور پر نومبر میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں کنٹرول کم ہو سکتا ہے۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد توانائی سے جڑے کئی مسائل نے سر اٹھایا اور تیل مصنوعات کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ممجموعی طور پر بات افراط زر کی طرف گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو جاری کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل کے دوران پچھلے تین برسوں میں سب سے زیادہ قیمتیں بڑھیں۔
صدر ٹرمپ نے عالمی سطح یہ تاثر بنانے کی کوشش کی ہے کہ جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیدا ہونے والے اقتصادی خدشات ثانوی چیز ہیں۔
تاہم دوسری ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کے جائزوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے جس مخصوص وقت کی ضرورت ہو گی وہ پچھلے موسم گرما کے بعد سے تبدیل نہیں ہوا ہے جب حکام کی جانب سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے جوہری ہتھیاروں تک پہنچنے کی مدت میں نو ماہ سے ایک برس تک کی تاخیر ہو گی۔
ذرائع کے مطابق دو ماہ کی جنگ کے بعد بھی تہران کے جوہری پروگرام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کی جانب سے لاحق خطرات قلیل مدتی اقتصادی مشکلات سے کہیں زیادہ ہیں۔
دوسری جانب ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک اس شبہے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ایٹم بم بنانے کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔

شیئر: