Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب یونیورسٹی میں طالبات سراپا احتجاج کیوں؟

11 ہاسٹلز میں اوسطاً ہر ہاسٹل میں ساڑھے تین سے سو زائد طالبات رہائش پزیر ہیں۔ (فوٹو: فیس بک پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹو)
پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ پنجاب کے ہاسٹلز میں رہائش پذیر طالبات نے میس کا کھانا مہنگا ہونے پر احتجاج کیا ہے۔
بدھ کو سینکڑوں طالبات نے ہاسٹلز انتظامیہ کے دفاتر کا رخ کر لیا اور میس کی ماہانہ فیس میں اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ 
ہوسٹل نمبر 10 کی ایک طالبہ بشریٰ ماہ نور نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایک مہینے میں دو مرتبہ کھانے کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
'طالبات کے میس کا انتظام میل سٹوڈنٹس سے مختلف ہے۔ یہاں آپ کھانا کھائیں یا نا کھائیں ہر صورت میں ماہانہ میس کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔'
بشریٰ ماہ نور کا کہنا تھا کہ 'کورونا کے دنوں میں جب ہاسٹلز بند تھے تب بھی سب طالبات سے پانچ سو روپے ماہانہ نان میس فیس کے نام سے وصول کیے جاتے رہے اور اب اچانک ماہانہ فیس میں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔'
انہوں نے بتایا کہ 'اس سے پہلے ماہانہ میس کی فیس 35 سو روپے تھی جس کو اسی مہینے پہلے 37 سو روپے کیا گیا اور پھر بڑھا کر 43 سو روپے کر دیا گیا۔'
احتجاج میں شریک ایک اور طالبہ نائلہ امتیاز نے بتایا ’یہ ایک سرکاری یونیورسٹی ہے جس کو سالانہ بجٹ حکومت فراہم کرتی ہے اور یہاں ہزاروں طالب علم رہائش پزیر بھی ہیں۔'
'اگر آپ 100 روپیہ بھی کسی مد میں بڑھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ نے لاکھوں روپے اضافی اکھٹے کر لیے۔ ایسی طالبات بھی ہیں جو پہلے ہی اپنا گزر بسر مشکل سے کر رہی ہیں۔ آپ ایک مہینے میں آٹھ سو روپے کا اضافی بوجھ ان پر نہیں ڈال سکتے۔'
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان محمد خرم نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے بتایا ’اس وقت ملک مہنگائی کی شدید ترین لہر میں ہے۔ ہوسٹلز کے میس پبلک پرائیویٹ انتظام سے چلتے ہیں۔ ایک کلو گھی کی قیمت 150 روپے سے 450 روپے ہو چکی ہے۔'
'جبکہ طالبات کو تھوڑے سے پیسوں کے عوض ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا بھی دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ نے 37 سو روپے سے بڑھا کر چار ہزار روپے کیا ہے، آپ خود ہی بتائیں یہ ایک مہینے کا تین وقت کا کھانا ہے۔ یہ اس سے سستا نہیں ہو سکتا۔'
طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے ماہانہ خرچہ لے کر پڑھ رہی ہیں اور مہنگائی نے ہر شخص کو متاثر کیا ہوا ہے۔

بشریٰ ماہ نور کے مطابق ایک طالبہ جو 10 ہزار روپے میں مہینے کا گزر بسر کرتی تھی، اب وہ خرچہ 15 ہزار روپے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ (فوٹو: فیس بک پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹو)

بشریٰ ماہ نور کے مطابق ’ہمارے گھر بھی چل رہے ہیں۔ ہمارے والدین اور بہن بھائی بھی ہیں اور اس میں ہمارے والدین ہمارا خرچہ اٹھا رہے ہیں، اور مہینے میں صرف کھانا ہی نہیں ہوتا۔'
'تعلیم کے اپنے بھی اخراجات ہیں جن میں بے بہا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک طالبہ جو 10 ہزار روپے میں مہینے کا گزر بسر کرتی تھی، اب وہ خرچہ 15 ہزار روپے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں اس کو اور بڑھانا بہت تکلیف دہ ہے۔'
انہوں نے مزید کہا کہ 'ابھی ہمیں کہا گیا ہے کہ 43 سو سے چار ہزار روپے کر رہے ہیں لیکن ہمیں امید نہیں کہ وہ ایسا کریں گے۔ تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے میں عار محسوس نہیں کریں گے۔'
خیال رہے کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں طالبات کے 11 ہاسٹلز ہیں جن میں اوسطاً ہر ہاسٹل میں ساڑھے تین سے سو زائد طالبات رہائش پزیر ہیں، جبکہ لڑکوں کے ہاسٹلز الگ ہیں۔
یونیورسٹی ویب سائٹ کے مطابق ہاسٹلز میں کل ملا کر 25 ہزار طالب علم رہائش پزیر ہیں۔ 
یونیورسٹی کی حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ہاسٹلز میں روٹی مہنگی ہونے پر طالبات احتجاج کے لئے باہر نکل آئی ہیں۔
اس سے پہلے فیسز کے بڑھنے یا دیگر معاملات پر طلبہ و طالبات کے احتجاج ضرور سامنے آتے رہے ہیں لیکن یہ احتجاج اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے۔

شیئر: