Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش،مرنے والوں کی تعداد دوگنا

واکنگ بارڈرز نے پناہ گزینوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ خطرناک سمندری راستوں کو قرار دیا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی
مختلف سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق گزشتہ برس کے دوران صرف سپین میں داخلے کی کوشش کے دوران چار ہزار 400 افراد سمندر میں لاپتہ ہوئے جن میں کم از کم 205 بچے شامل تھے۔
پناہ گزینوں کی صورتحال پر نظر رکھنے والے مانیٹرنگ گروپ واکنگ بارڈرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں سپین پہنچنے کے لیے سمندر میں کھو جانے والے افراد کی تعداد گزشتہ برس کی نسبت دو گنا رہی۔
واکنگ بارڈرز نے پناہ گزینوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ خطرناک سمندری راستوں اور کمزور کشتیوں کو قرار دیا ہے۔
سپین کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2021 کے دوران تین ہزار 900 غیرقانونی تارکین وطن سمندری اور زمینی راستوں سے ملک میں داخل ہوئے۔
حکام کے مطابق اتنی ہی تعداد میں غیرقانونی پناہ گزین اس سے پچھلے برس بھی سپین میں داخل ہوئے تھے۔
واکنگ بارڈرز کے مطابق زیادہ تر پناہ گزین بحرالکاہل میں سپین کے جزیرے کینرے والے روٹ سے داخلے کی کوشش میں ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
افریقی ساحل سے اس جزیرے کی جانب رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی زیادہ تر کشتیوں کو حادثات پیش آتے رہے۔
افریقہ، ایشیا اور یورپ کے درمیان بحیرہ روم کے راستے سے سپین میں داخلے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کم ہے۔ 
واکنگ بارڈرز کی بانی ہیلینا مالینو نے روئٹرز کو بتایا کہ انہوں نے نے اعداد وشمار پناہ گزینوں کے لیے قائم ہاٹ لائن اور مشکلات میں گھری کشتیوں کے رابطوں اور اور لاپتہ پناہ گزینوں کے اہلخانہ سے اکھٹے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سمندر میں مرنے والے پناہ گزینوں کی اصل تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز

ان کا کہنا تھا کہ گروپ نے ہر کشتی کی منزل یا قسمت کا پتا لگانے کی کوشش کی اور ان تحقیقات میں یہ اخذ کیا گیا کہ جو پناہ گزین ایک ماہ تک سمندر میں لاپتہ رہے ان کو مردہ تصور کیا جائے۔ 
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے پناہ گزین کے مطابق سپین کے کینرے جزیرے کی قریب حادثے کے شکار ہونے والی صرف ایک کشتی میں 955 افراد مارے گئے تھے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ سمندر میں مرنے والے پناہ گزینوں کی اصل تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
سپین کی حکومت اپنے ساحلوں کی جانب آنے کی کشش میں مرنے والے پناہ گزینوں کا ریکارڈ مرتب نہیں کرتی اور وزارت داخلہ نے اس حوالے سے تازہ اعداد وشمار پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔

شیئر: