گرین لینڈ تنازع، فرانسیسی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز شمالی او قیانوس روانہ
گرین لینڈ تنازع، فرانسیسی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز شمالی او قیانوس روانہ
منگل 27 جنوری 2026 17:29
فرانسیسی بحریہ کے فضائی بیڑے والے جہاز نے ٹولون بحری اڈے سے سفر شروع کیا۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکہ اور یورپ کے درمیان گرین لینڈ پر تناؤ کے دوران فرانسیسی بحریہ کے چارلس ڈی گال طیارہ بردار بحری جہاز نے منگل کو بحر اوقیانوس کا سفر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی وزارت دفاع نے منگل کو اس حوالے سے بیان جاری کیا تاہم یہ نہیں بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو کہاں تعینات کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر کے دفتر نے بتایا کہ بدھ کو صدر ایمانوئل میکخواں پیرس میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
یورپی طاقتیں اس وقت اکٹھی ہوئیں جب رواں ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود مختار ڈنمارک کے علاقے پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے کر ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو کمزور کیا۔
گرین لینڈ کا محل وقوع تزویراتی اعتبار سے اس لیے اہم ہے کہ یہ آرکٹک اوقیانوس اور شمالی بحر اوقیانوس کے درمیان واقع ہے۔
فرانسیسی وزارت دفاع نے چارلس ڈی گال کی تعینات کے مقام کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں لیکن اس معاملے سے واقف ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز شمالی بحر اوقیانوس کی طرف جا رہا تھا جو کہ جغرافیائی سیاست کی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔
فرانسیسی وزارت دفاع نے کہا کہ ’بحریہ کے فضائی بیڑے والے جہاز نے ٹولون بحری اڈے سے سفر شروع کیا جو اورین 26 مشقوں میں حصہ لے گا جو بڑے پیمانے پر مشترکہ اور اتحادی مشقیں ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’آنے والے ہفتوں کے دوران یورپی مفادات کے دفاع کے لیے ایک سٹریٹجک علاقے بحر اوقیانوس کے زون میں منعقد کی جانے والی یہ مشق فرانسیسی افواج کو اپنے علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اکٹھا کریں گی۔‘
کیریئر سٹرائیک گروپ میں طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے جیٹ جہازوں کے ساتھ ساتھ مختلف حفاظتی اور امدادی جہاز، جیسے فضائی دفاعی فریگیٹ، سپلائی جہاز اور حملہ آور آبدوز شامل ہیں۔
اے ایف پی نے جن ذرائع سے بات کی اُن میں سے کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ شمالی بحر اوقیانوس میں کیریئر سٹرائیک گروپ کتنی دور تک جائے گا۔
فرانسیسی وزارت دفاع نے چارلس ڈی گال کی تعینات کے مقام کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ناردرن فلیٹ یا بالٹک فلیٹ میں روسی آبدوزیں باقاعدگی سے شمالی بحر اوقیانوس کے پانیوں سے گزرتی ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے رواں ماہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے اور اس کی مخالفت کرنے والے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت تمام یورپی ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
یورپی ملکوں کی جانب سے اس پر ردعمل کے بعد صدر ٹرمپ فوجی طاقت کے ذریعے علاقے پر قبضہ کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے پیر کو خبردار کیا تھا کہ یورپ امریکہ کے بغیر اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ لیکن فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نول باروٹ نے جواب دیتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’یورپی اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود لے سکتے ہیں اور انہیں لینا چاہیے۔‘