انڈیا کی سیاحت کے لیے مشہور ریاست گوا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرِغور
انڈیا کی سیاحت کے لیے مشہور ریاست گوا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرِغور
منگل 27 جنوری 2026 16:07
انڈیا کو ٹیکنالوجی کمپنیوں میٹا، گوگل، یوٹیوب اور ایکس کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کی سیاحت کے لیے مشہور ریاست گوا میں حکام بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر اُسی طرح کی پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جیسی کہ آسٹریلیا میں لگائی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ریاستی حکام کو خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا کے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انڈیا میں دنیا میں سب سے زیادہ ایک ارب انٹرنیٹ صارفین ہیں۔
انڈیا کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میٹا، گوگل، یوٹیوب اور ایکس کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے جہاں 18 برس سے کم عمر افراد کی بہت بڑی تعداد ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتی ہے۔
تاہم ملک کی مرکزی حکومت بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔
ریاست کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روہن کھاونٹے نے کہا کہ گوا میں حکام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک نابالغوں کی رسائی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے آسٹریلیا کے قانون کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اگر ممکن ہوا تو 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے اسی طرح کی پابندی کا نفاذ کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات ساتھ ساتھ آئیں گی۔
ریاستی حکام کو خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا کے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
جنوبی ریاست آندھرا پردیش نے کہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ آندھرا پردیش کی آبادی پانچ کروڑ 30 لاکھ ہے جبکہ اس کے برعکس گوا رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ریاست ہے جس کی آبادی کا تخمینہ 15 لاکھ سے زیادہ ہے۔
انڈیا کی آئی ٹی کی وزارت نے روئٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ گوگل اور ایکس نے بھی فوری طور پر اس منصوبے پر تبصرہ کرنے کے لیے روئٹرز کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا۔