Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کی سدھو کے بارے میں مبینہ سفارش پر انڈیا میں تنازع

امریندرسنگھ اس وقت پنجاب میں بی جے پی کی اتحادی حکومت کا حصہ ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈین پنجاب کے سابق وزیراعلی کیپٹن (ر) امریندر سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے نوجوت سنگھ سدھو کو پنجاب کابینہ میں وزیر بنانے کی سفارش کی تھی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں سابق وزیراعلی پنجاب کہتے ہیں کہ انہیں ایک ذریعے سے پیغام بھیجا گیا کہ سدھو کو اپنی حکومت کا حصہ بنا سکتے ہیں تو بنا لیں اور اگر وہ کام نہ کر سکیں تو نکال دیجیے گا۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ان سے وضاحت چاہی گئی تو کیپٹن (ر) امریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے بارے میں ہی بات کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان سے پیغام آیا کہ وزیراعظم نے درخواست کی ہے کہ سدھو کو کایبنہ کا حصہ بنا سکیں تو شکرگزار ہوں گے کیونکہ سدھو ان کے (وزیراعظم پاکستان) پرانے دوست ہیں۔
پنجاب لوک کانگریس کا حصہ امریندر سنگھ پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے حالیہ گفتگو گزشتہ روز بی جے پی کے ہیڈکوارٹرز دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کی تھی۔
امریندر سنگھ اس وقت صوبے میں بی جے بی کی اتحادی حکومت کا حصہ ہیں۔
انڈین پنجاب کے سابق وزیراعلی کے اپنے سیاسی مخالف سے متعلق دعوے کے بعد پاکستانی اور انڈین ٹویپس نے اپنے اپنے انداز میں معاملے پر تبصرہ کیا۔
بی جے پی کا اتحادی بننے سے کانگریس سمیت متعدد سیاسی جماعتوں میں رہنے والے امریندر سنگھ کے حامی انڈین ٹویپس نے اعتراض کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم کس حیثیت میں انڈین ریاست کی حکومت کے معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

انڈین سیاسی جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے ٹویپس نے دو مرتبہ پنجاب کے وزیراعلی رہنے والے امریندرسنگھ کے دعوے کو جھوٹا کہا تو موقف اپنایا کہ عمران خان اگست 2018 میں پاکستان کے وزیراعظم بنے تھے، جب کہ سدھو نے مارچ 2017 میں حلف اٹھایا تھا۔
ہ
سدھو کے بارے میں امریندرسنگھ کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب سابق کرکٹر کانگریس کے ریاستی سربراہ اور وہ خود بے جے پی کے اتحادی ہیں۔
دو مرتبہ ریاست کی وزارت اعلی کے منصب پر فائز رہنے والے امریندر سنگھ راجیو گاندھی سے دوستی کے باعث کانگریس کا حصہ بنے اور 1980 میں پہلی مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے تھے، البتہ سکھوں کے خلاف 1984 میں ہونے والے آپریشن بلیو سٹار کے خلاف احتجاجا وہ 1984 میں پارلیمنٹ اور کانگریس سے مستعفی ہو گئے تھے۔
بعد میں اکالی دل کا حصہ بن کر وہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 1992 تک اسی سیاسی جماعت کا حصہ رہے۔ اس موقع پر انہوں نے پارٹی میں اپنا الگ گروپ بنا کر علیحدگی اختیار کی تو 1998 میں اس گروہ کو کانگریس میں ضم کر دیا تھا۔
2017 میں کانگریس نے ان کی قیادت میں ریاستی اسمبلی میں حکومت قائم کی تو وہ دوسری مرتبہ وزیراعلی بنے۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے سابق وزیراعلی کی حالیہ گفتگو کو محض سیاسی مخالفت قرار دیتے ہوئے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔

ایک صارف نے یہ سوال تک کر ڈالا کہ کیا اس بیان کے ذریعے سابق وزیراعلی یہ بتا رہے ہیں کہ وہ پاکستانی وزیراعظم تک رسائی رکھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا انہوں نے اس سے مرکزی حکومت کو آگاہ کیا ہے۔

شیئر: