Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں بارشوں سے تباہی، صوبائی حکومت نے وفاق سے مدد مانگ لی

وزیر زراعت بلوچستان نے وفاق سے صوبے کو 50 ارب روپے کا پیکج دینے کا مطالبہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان حکومت نے صوبے میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بعد وفاق سے مدد مانگ لی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے بعد کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جاری بارشوں کی تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ بلوچستان متاثر ہوا ہے اور اس کے تقریباً تمام اضلاع میں نقصانات ہوئے ہیں۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان کے مطابق 13 جون سے 30 جون تک پری مون اور 3 جولائی سے شروع ہونے والی اور اب تک جاری مون سون بارشوں سے بلوچستان کے 20 سے زائد اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 69 افراد ہلاک اور ہزاروں متاثر ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد گھر، رابطہ سڑکیں اور متعدد پل بھی تباہ ہوگئے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر کھڑی فصلوں اور زراعت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’ان نقصانات کا ازالہ صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں، وفاق مشکل کی اس گھڑی میں بلوچستان کے عوام کا ساتھ دے۔‘
ان کا کہنا تھا ہے کہ ’بلوچستان کو 30 ہزار خیموں کی ضرورت ہے جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صرف 300 خیمے دیے ہیں۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نے سیلابی ریلوں اور حادثات کے نتیجے میں مرنے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔‘
 ’بلوچستان حکومت بھی مرنے والے افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے زیادہ زخمی ہونے والوں کو دو لاکھ روپے جبکہ معمولی نوعیت کے زخمیوں کو 50 ہزار روپے دے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نقصانات کے تخمینہ کے لیے صوبے میں سروے کرایا جائے گا۔‘ 
بلوچستان کے وزیر زراعت اسد بلوچ نے بھی وفاقی حکومت سے بلوچستان میں فصلوں اور زراعت کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے 50 ارب روپے کا پیکج دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعلٰی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں 30 ہزار خیموں کی ضرورت ہے جبکہ این ڈی ایم اے نے صرف 300 خیمے دیے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان میں 75 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے اور حالیہ بارشوں سے صوبے کی زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے
بلوچستان میں مزید طوفانی بارشیں 
چند دنوں کے وقفے کے بعد بلوچستان میں دوبارہ موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دنوں تک ژوب، زیارت، بارکھان، لورالائی، بولان ،کوہلو، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، نصیر آباد، جعفر آباد، جھل مگسی، ڈیرہ بگٹی، سبی، پنجگور، تربت اور پسنی میں بارشوں کی پیشین گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق جمعرات کو لسبیلہ، آواران، سبی، بولان، ہرنائی، ژوب، شیرانی ، دکی، موسیٰ خیل اور کوہلو میں شدید بارشیں ہوئی ہیں جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہی۔
’ہرنائی کو کوئٹہ اور پنجاب، بولان کو کوئٹہ اور سبی سے ملانے والی اور ژوب کو ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی رابطہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔‘

محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دنوں تک بلوچستان کے مختلف اضلاع اور شہروں میں مزہد بارشوں کی پیشین گوئی کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ضلع کچھی کی انتظامیہ نے بولان، مچھ اور کولپور کے ندی نالوں میں اونچے درجے کے سیلابی ریلے کے باعث سندھ بلوچستان شاہراہ رات کو ٹریفک کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لسبیلہ میں ولہ پٹ کے مقام پر سیلابی ریلے میں پل کا ایک حصہ بہہ گیا جس کی وجہ سے کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں مسافر پھنس گئے۔
بحیرہ عرب، کراچی اور حب ڈیم کے اطراف میں شدید بارشوں کے خطرے کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے حب ڈیم کی قریبی آبادیوں کے انخلا کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق 24 سے 72 گھنٹوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے اس لیے ڈیم انتظامیہ کو مروجہ ایس او پیز کے مطابق اضافی پانی کے محفوظ اخراج کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

دریائے ناڑی میں انتہائی اونچے درجے کا جبکہ ناڑی ہیڈ ورکس سے ایک لاکھ دس ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بلوچستان اور سندھ کے ماہی گیروں کو آئندہ تین روز تک سمندر میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔ آواران میں بھی بارش اور ژالہ باری کے سبب فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے ناڑی میں انتہائی اونچے درجے کا ریلہ ہے۔ ناڑی ہیڈ ورکس سے ایک لاکھ دس ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔
دریائے ناڑی کا پانی اوور فلو ہونے کی وجہ سے قریبی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ سبی کے ڈپٹی کمشنر منصور قاضی کے مطابق  صورت حال پر کڑی نظر ہے ضرورت ہوئی تو آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا۔

شیئر: