Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ضمنی انتخابات: پنجاب پولیس نے شہباز گل کو رہا کر دیا

شہباز گل نے کہا کہ بغیر کسی وارنٹ کے مجھے گرفتار کیا گیا، مجھے تین گھنٹے سے روکا گیا۔ (فائل فوٹو: شہباز گِل، فیس بک)
پنجاب کے ضمنی الیکشن کے دوران ضلع مظفر گڑھ میں ’اسلحے کی نمائش‘ پر حراست میں لیے گئے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو رہا کر دیا گیا ہے۔
پیر کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے یوٹیوب چینل پر تصدیق کی گئی ہے کہ پنجاب پولیس نے شہباز گل کو رہا کر دیا۔
پی ٹی آئی رہنما نے مظفر گڑھ جیل سے رہا ہونے کے بعد بیان میں کہا کہ ’مجھے جان بوجھ کر یاسر کے حلقے میں نہیں جانے دیا اور نون لیگ نے کم از کم 10ہزار ووٹ جعلی ڈلوائے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان سچ پر کھڑا ہے، عوام نے بلے کو اتنا ووٹ ڈالا کہ نون لیگ کی دھاندلی بھی برداشت نہ کر سکی۔ ایسا ریلا کبھی نہیں آیا ہے۔‘
یاد رہے کہ اتوار کو پنجاب کے وزیر داخلہ عطا تارڑ نے شہباز گل کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پنجاب میں اسلحہ رکھنے پر پابندی ہے۔
اس سے قبل مظفر گڑھ میں پولیس نے شہباز گل کے ساتھ آئے ایف سی کی وردیوں میں سکیورٹی گارڈز کو حلقے سے نکل جانے کے احکامات دئیے تھے۔ جب پولیس ایک پرائیویٹ فیکٹری میں شہباز گل کو یہ حکم دینے پہنچی تو تحریک انصاف کے کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔ جس کے بعد شہباز گل کو حراست میں لے لیا گیا۔
دوسری جانب شہباز گل نے کہا کہ بغیر کسی وارنٹ کے مجھے گرفتار کیا گیا، مجھے تین گھنٹے سے روکا گیا اور 10 منٹ پہلے مجھے کہا گیا کہ آپ کو گرفتارکر لیا گیا ہے، آپ باہر نہیں جا سکتے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میرے پاس ایف سی کے کوئی گارڈز نہیں ہیں، انہیں اوپرسے کہا گیا کہ مجھے الجھائے رکھا جائے، جو وکلا مشورہ دیں گے وہ لائحہ عمل اختیار کروں گا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کمانڈنٹ ایف سی صلاح الدین محسود کا بیان سامنے آیا ہے کہ شہباز گل کے ساتھ موجود اہلکار ایف سی کے نہیں ہیں۔
شہباز گل امن عامہ خراب کرنے کے لیے اہلکار ساتھ لائے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’محض عوام کوخوفزدہ کرنے اور انتخاب میں دھاندلی کے پیشِ نظر شہباز گل کی غیرقانونی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔‘
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے اپنے ٹویٹ میں شہباز گل کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’شکست دیکھ کر حکومت بوکھلا گئی ہے۔‘
دوسری جانب وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق شہباز گل کے ساتھ جو نجی سکیورٹی اہلکار ہیں، وہ ایف سی کے نہیں ہیں مگر ان کے بیجز ایف سی اہلکاروں جیسے ہیں۔
اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی اس نجی سیکورٹی کمپنی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس نے ایف سی جیسے بیجز استعمال کیے ہیں۔  
 

شیئر: