خطے میں جنگ کے باعث ایران ۔ پاکستان تجارت متاثر، تفتان سے ہزار سے زائد شہری واپس
خطے میں جنگ کے باعث ایران ۔ پاکستان تجارت متاثر، تفتان سے ہزار سے زائد شہری واپس
پیر 2 مارچ 2026 17:46
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات پاکستان کے سرحدی علاقوں تک پہنچ گئے ہیں۔
ایک جانب ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کی زمینی راستے سے وطن واپسی جاری ہے تو دوسری جانب پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں ایرانی تیل اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سرحدی شہر تفتان میں حکام کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہری ایران سے واپس آ چکے ہیں۔ امیگریشن پر تعینات فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اہلکار نے بتایا کہ واپسی کے عمل میں تیزی آئی ہے اور واپس آنے والوں میں طلبہ، زائرین، سیاح اور تاجر شامل ہیں۔
ایک اہلکار کے مطابق ایران سے 253 پاکستانی قیدیوں کو بھی ڈی پورٹ کیا گیا ہے جنہیں کوئٹہ روانہ کر دیا گیا۔
تفتان پولیس کے ایس ایچ او عبدالحکیم کے مطابق گزشتہ رات آنے والے شہریوں کو قافلوں کی صورت میں کوئٹہ روانہ کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مختلف ایرانی جامعات میں زیرِتعلیم سینکڑوں پاکستانی طلبہ بھی تفتان کے راستے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق واپس آنے والوں کو عارضی طور پر تفتان میں ٹھہرایا جاتا ہے جہاں ابتدائی سہولیات کی فراہمی کے بعد انہیں سکیورٹی حصار میں کوئٹہ اور دیگر شہروں کی جانب بھیجا جاتا ہے۔
ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سماجی رابطے کی سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران تقریباً 650 پاکستانی شہریوں کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے، جن میں اکثریت طلبہ کی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث سفارتخانہ ایرانی حکام کے تعاون سے شہریوں کو رہنمائی اور سہولت فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے اس عمل کو کثیر سطحی اور پیچیدہ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت بالخصوص سرحدی حکام اور آذربائیجان کے اہلکاروں نے بھرپور مدد فراہم کی جبکہ حکومت بلوچستان، پاکستانی سرحدی حکام اور ایف آئی اے نے چوبیس گھنٹے تعاون جاری رکھا۔
سفیر کے مطابق ایران میں مواصلاتی نظام شدید متاثر ہے جس کے باعث سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ مشکل ہو گیا ہے تاہم بعض براہِ راست ٹیلی فون لائنیں جزوی طور پر فعال ہیں۔ انہوں نے ایران میں مقیم پاکستانیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں، صورتحال پر نظر رکھیں اور سفری دستاویزات ہمہ وقت تیار رکھیں۔
پاکستانی سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی جانب سے کسی کو ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، صرف ایرانی شہریوں کو وطن واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ ایران کی طرف سے بھی صرف وہاں موجود پاکستانیوں کو واپس آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
واپس آنے والے شہریوں نے ایران کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں راستے متاثر تھے، ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھی اور انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث رابطوں اور معلومات کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
سرحدی صورتحال کے باعث بعض تاجر سامان واپس کوئٹہ کی جانب لے جا رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
کشیدہ حالات کے باعث پاک ایران سرحد پر تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تفتان میں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں جن میں آلو، کینو، چاول اور دیگر اشیائے خورونوش لدی ہوئی ہیں۔ مقامی تاجروں کے مطابق نہ صرف ایران بلکہ ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہونے والی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔
آلو اور کینو کے ایک تاجر حاجی عبداللہ کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث تاجروں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی سرحد گزشتہ کئی ماہ سے بند ہونے کے باعث پاکستان سے آلو، کینو اور چاول ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھیجے جا رہے تھے تاہم ایران میں بھی راستے بند ہونے سے تجارت پر رک گئی ہے۔
ایک مال بردار گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ پنجاب سے آلو لوڈ کر کے ایران جانا تھا مگر سرحد پر شدید رش کے باعث تفتان بازار سے این ایل سی ٹرمینل تک پہنچنے میں کئی دن لگ گئے۔ ان کے مطابق متعدد گاڑیوں میں موجود مال خراب ہو چکا ہے اور بعض تاجر سامان واپس کوئٹہ اور دیگر شہروں کی جانب لے جا رہے ہیں۔
سرحدی سکیورٹی اہلکاروں نے تصدیق کی کہ ایران میں راستوں کی بندش کے باعث آلو اور کینو سے لدی کئی گاڑیاں ایران سے واپس آ چکی ہیں۔
تفتان میں موجود ایک ایرانی ڈرائیور ہادی نے بتایا کہ طویل قطاروں میں پھنسے افراد کو خوراک اور رہائش کے مسائل کا سامنا ہے۔
ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کے اثرات سرحدی پاکستانی علاقوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں کیونکہ بہتر رفتار کی وجہ سے کئی افراد ایرانی نیٹ ورک استعمال کرتے تھے۔
کوئٹہ میں ایرانی تیل کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
رسمی تجارت کے ساتھ غیر رسمی تجارت اور ایرانی اشیا کی سمگلنگ بھی متاثر ہوئی ہے۔ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا ایران سے آتی ہیں۔ ایرانی خشک دودھ، بسکٹ اور ایرانی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں ایرانی تیل کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے۔ جنگ سے قبل یہ قیمت تقریباً 165 روپے فی لیٹر تھی جو اب 200 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ جیونی میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ ایک شخص کے مطابق سرحد پار جس تیل کی قیمت 57 سے 60 روپے فی لیٹر تھی وہ اب 100 روپے میں بھی دستیاب نہیں۔
دوسری جانب گوادر کی تحصیل جیونی سے ملحقہ گبد رمدان سرحد کے راستے بھی پاکستانی شہریوں کی واپسی جاری ہے۔ گوادر کے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کے مطابق اتوار تک 51 پاکستانی واپس آ چکے ہیں جن میں اکثریت طلبہ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ واپس آنے والوں کو رہائش، خوراک اور آگے سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ماہی گیروں کو بھی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مچھلی کے شکار کے لیے ایرانی سمندری حدود کی جانب نہ جائیں تاکہ کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔