شہری سے ضبط کیے گئے 42 آئی فونز کا کیس، ازسرِنو انکوائری میں کسٹمز حکام طلب
شہری سے ضبط کیے گئے 42 آئی فونز کا کیس، ازسرِنو انکوائری میں کسٹمز حکام طلب
منگل 3 مارچ 2026 6:53
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
متاثرہ شہری ہلال جان نے وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس شکایت درج کرائی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
اسلام آباد ایئرپورٹ پر شہری سے ضبط کیے گئے 42 آئی فونز کے کیس میں وفاقی ٹیکس محتسب نے انکوائری دوبارہ شروع کرتے ہوئے کسٹمز حکام کو آج (منگل) طلب کیا ہے۔
اس سے قبل پشاور سے تعلق رکھنے والے شہری کے 42 آئی فونز کو کسٹمز حکام نے ناقابلِ امپورٹ قرار دے کر ضبط کیا اور بعد میں انہیں تلف کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم شہری نے وفاقی ٹیکس محتسب میں شکایت درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موبائل فونز اب بھی مارکیٹ میں زیرِ استعمال ہیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے شہری ہلال جان دبئی سے 42 آئی فون لے کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے جہاں کلیکٹریٹ آف کسٹمز نے یہ آئی فونز ضبط کر لیے۔
کسٹمز کی جانب سے شہری کو بتایا گیا کہ ان کے آئی فون کنٹری لاک ہیں اور پاکستان میں قابلِ استعمال نہیں اور ایس او پیز کے تحت ان موبائل فونز کو تلف کر دیا گیا ہے۔
تاہم بعد ازاں شہری کی جانب سے چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ بعض آئی ایم ای آئی نمبرز پر آئی کلاؤڈ لاگ اِن فعال تھے۔ شہری کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے ہی کچھ موبائل فون بعد میں مارکیٹ سے خرید بھی لیے۔
شہری ہلال جان نے وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس شکایت درج کرائی جس پر کارروائی عمل میں آئی۔
اردو نیوز کو وفاقی ٹیکس محتسب کے قانونی مشیر الماس علی جووندہ نے بتایا کہ صدرِ مملکت کی ہدایات کے بعد کیس کی دوبارہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایف بی آر کے ڈائریکٹریٹ ایئرپورٹ اور کلیکٹریٹ انفورسمنٹ کو طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے سرے سے انکوائری کا آغاز ہو چکا ہے۔
شہری کا کیا مؤقف ہے؟
پشاور سے تعلق رکھنے شہری ہلال جان جو پیشے کے اعتبار سے تاجر بھی ہیں نے اردو نیوز کو بتایا کہ 13-06-2023 کو وہ دبئی سے 42 موبائل فون پاکستان میں لائے تاکہ کاروبار شروع کیا جا سکے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر موبائل فونز ضبط کرنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ وہ تلف کر دیے گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب بعد میں آئی ایم ای آئی نمبرز کے ذریعے چیک کیا تو آئی کلاؤڈ سٹیٹس فعال پایا۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ موبائل فونز مارکیٹ میں فروخت ہو چکے ہیں جس کے بعد انہوں نے دوبارہ اُن میں سے چند فونز خرید لیے۔
اب انکوائری دوبارہ شروع ہونے پر وہ وفاقی ٹیکس محتسب کو بطور ثبوت موبائل فون پیش کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے کلیکٹریٹ آف کسٹمز کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پہلی انکوائری میں کیا کارروائی ہوئی؟
یہ کیس وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس آیا تو محتسب نے سیکریٹری ریونیو ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ انکوائری کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔
شہری کے آئی فونز جون 2023 میں ضبط کیے گئے تھے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ موبائل فونز تلف نہیں کیے گئے، تاہم انکوائری میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ آئی کلاؤڈ لاگ اِن کسی مخصوص ڈیوائس سے منسلک نہیں ہوتا، بلکہ آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ مختلف ڈیوائسز پر استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے فعال لاگ اِن کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ فون موجود ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ موبائل فونز کو پی ٹی اے سے کمپلائنس سرٹیفکیٹ کے اجرا کی شرط سے مشروط کر کے جاری کیا جانا تھا، جبکہ پی ٹی اے نے ان تمام موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبر بلیک لسٹ کر دیے تھے۔
مزید یہ کہ ضبط شدہ موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز اور تلف کیے گئے موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز کا موازنہ کیا گیا، تو وہ ایک ہی پائے گئے۔
رپورٹ کے بعد وفاقی ٹیکس محتسب نے شکایت کنندہ کے اس مؤقف کو کہ آئی کلاؤڈ لاگ اِن فعال ہونے کا مطلب ہے کہ موبائل فونز تلف نہیں کیے گئے، مسترد کر دیا اور انکوائری بند کر دی تھی۔
تاہم گزشتہ سال کے آخر میں صدرِ مملکت نے ہدایت کی کہ اس معاملے کی جامع انکوائری دوبارہ شروع کی جائے اور رپورٹ مرتب کر کے پیش کی جائے۔
اردو نیوز نے اس معاملے کو مزید سمجھنے کے لیے پاکستان کے سابق وزیرِ مملکت اور ایف بی آر و کسٹمز کے امور پر نظر رکھنے والے ہارون شریف سے بھی گفتگو کی۔
ہارون شریف نے کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم جہاں انسانی عمل دخل ہوگا وہاں کسی نہ کسی بے ضابطگی کا امکان موجود رہتا ہے۔
’دنیا بھر میں طریقہ کار یہ ہے کہ جب اس طرح کا سامان ضبط کیا جاتا ہے تو اسی وقت اس کی تصاویر لے کر آن لائن اس کا سٹیٹس ظاہر کر دیا جاتا ہے اور ایک آزاد ادارے کے ذریعے اس کی نیلامی کرائی جاتی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا اگر موبائل فونز یا اس نوعیت کی قیمتی اشیا کو طویل عرصے تک کسٹمز کے گودام میں رکھا جائے تو اس طرح کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آ سکتی ہیں۔