پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری، کابل میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں
پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری، کابل میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں
منگل 3 مارچ 2026 7:29
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور افغانستان کی فوجوں کے درمیان منگل کو سرحدی علاقوں میں مزید جھڑپیں ہوئیں اور فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کابل میں موجود اس کے نمائندوں نے متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت میں دھماکوں کے علاوہ طیارہ شکن ہتھیاروں اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں جبکہ افغانستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی فوج کے خلاف اب بھی لڑائی جاری ہے۔‘
کابل اور سرحد کے درمیان واقع شہر جلال آباد میں موجود اے ایف پی سے وابستہ صحافی نے دھماکوں اور مختلف ہتھیاروں کی فائرنگ کی اطلاع بھی دی ہے۔
جلال آباد سے 50 کلومیٹر (30 میل) کے فاصلے پر واقع سرحدی گزرگاہ طورخم کے رہائشیوں نے بھی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ کئی روز سے لڑائی جاری ہے۔
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جھڑپیں جمعرات کے روز اس وقت شروع ہوئی تھیں جب افغانستان نے پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے جواب میں سرحدی علاقے میں کارروائی شروع کر دی تھی۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت کا کہنا ہے کہ تازہ ترین ہلاکتوں میں تین بچے شامل ہیں جو پیر کو ’پاکستان فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی‘ کا نشانہ بنے۔
افغان حکومت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جمعرات سے لے کر اب کم از کم 39 شہری مارے جا چکے ہیں اور ان اعداد و شمار پر ابھی تک پاکستان کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
سرحدی علاقوں میں شروع ہونے والی لڑائی سے افغانستان کے متعدد صوبے متاثر ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کے بچوں کے چیرٹی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کو بچوں کی ہلاکت پر شدید تشویش ہے اور تمام فریقوں سے ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں کی جانوں کی حفاظت‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ فروری میں ہونے والے فضائی حملوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان حملوں کے بعد سے پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے افغانستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ہے تاہم طالبان کی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔
سرحدی علاقوں میں شروع ہونے والی اس لڑائی سے افغانستان کے متعدد صوبے متاثر ہوئے ہیں۔
صوبائی محکمہ اطلاعات کے مطابق وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تازہ جھڑپیں قندھار اور قریبی صوبے زابل میں ہو رہی ہیں۔
پڑوسی ممالک کے درمیان اکتوبر میں بھی جھڑپیں ہوئی تھیں اور تب سے دونوں کے درمیان زمینی راستے بڑی حد تک بند ہیں۔