Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نیوم میں ’دا لائن‘ سٹی کا ڈیزائن جاری کر دیا

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے  نیوم میں مستقبل کے شہر ’دا لائن‘ کا ڈیزائن جاری کردیاہے۔  یہ قدرتی ماحول سے ہم آہنگ پائیدار طرز معاشرت کے حوالے سے مثالی بین الاقوامی ماڈل ہے اور اس کا محور ’انسان‘ کو بنایا گیا ہے۔ 
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ برس جنوری میں ’دا لائن‘ سٹی کا ابتدائی تصور پیش کرچکے  ہیں۔ ان کا یہ تصور شہری ترقی کے خیال  اور ممکنہ طور پر مستقبل کے شہروں کے نظریے پر مشتمل ہے۔ 
’دا لائن‘ سٹی کا ڈیزائن سڑکوں، گاڑیوں اور کاربن کی آلودگی سے پاک ہوگا۔ یہ مستقبل کے ایسے شہروں کا مثالی نمونہ ہوگا جسے پوری دنیا میں اپنایا جائے گا۔
منصوبہ نیوم کے 95 فیصد قدرتی مناظر کے تحفظ میں مدد گار ثابت ہوگا۔ سو فیصد جدت پذیر توانائی پرمنحصر ہوگا۔
اس کا دارومدار انسان کی صحت اور خوشحالی پر رکھا گیا ہے۔ روایتی شہروں کے برعکس بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ کو  مقدم رکھنے کے بجائے انسان کی صحت کو  فوقیت دی جائے گی۔ 
’دا لائن‘ شہر اہم خوبیوں پر مشتمل ہوگا۔ اس کی چوڑائی 200 میٹر ہوگی جبکہ 170 کلو میٹرطویل  ہوگا۔
سطح سمندرسے500 میٹر  بلندی  پر واقع ہوگا۔ پورا شہر کا مجموعی رقبہ 34 کلو مربع میٹر کے ہوگا۔

سطح سمندر سے شہر کی بلندی 5 سو میٹرہوگی(فوٹو، ایس پی اے)

مستقبل کے اس شہر میں 90 لاکھ افراد کی آبادی کی گنجائش ہوگی۔ اس جیسے حجم والے شہر کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔
اس کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ زیادہ نہیں پھیلے گا۔  اس کا موسم سال بھر مثالی ہوگا۔ اس کے شہری قدرتی مناظر سے ہر وقت لطف اندوز ہوں گے۔ چہل قدمی کرتے وقت انہیں مزہ آئے گا۔  
دا لائن کے تمام باشندے 5 منٹ کے  اندر رفاع عامہ کے تمام ذرائع تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ شہر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کو 20 منٹ کے اندر جوڑنے والی تیز رفتار ٹرین چلائی جائیں گی۔ 
شہزادہ محمد بن سلمان نے جو نیوم مجلس انتظامیہ کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ ’دا لائن کا تصور بیان کراتے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کا حقیقی محور انسان ہوگا اور یہ جدید ترقیاتی معاشروں کے لیے ایک مثال ہوگا‘۔
’آج دا لائن کا ڈیزائن پیش کرکے یہ وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔ اس سے شہر کا کثیر منزلہ داخلی ڈھانچہ اجاگر ہوگا۔ یہ روایتی افقی شہروں کے مسائل سے آزاد ہوگا۔ یہ قدرتی ماحول کے تمام ذرائع کے تحفظ اور تمدنی ترقیاتی عناصر کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی ایک مثال ہوگا‘۔  

مستقبل کے اس شہر میں 90 لاکھ افراد کی گنجائش ہوگی(فوٹو، ایس پی اے)

شہزادہ  محمد بن سلمان نے مزید کہاکہ ’ہم ماحولیاتی بحران کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔  اسی طرح دنیا بھر کے شہروں کو درپیش طرز حیات  کے بحران سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نیوم میں اچھوتے اور جدید ترین ماڈل پیش کرنے والوں میں سرفہرست ہوں‘۔ 
نیوم ورکنگ ٹیم اور فن تعمیر میں دنیا بھر کے اعلی ترین ذہن رکھنے والے گروپ کی قیادت میں ’نئے طرز تعمیر‘ کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ 
شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ’ نیوم  سعودی وژن  2030 کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ ’دا لائن‘ سٹی ہمارے اس پختہ عزم کا اظہار ہے کہ مثالی نمونہ پوری دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔ نیوم بہتر مستقبل کا خوابوں کا شہر ہوگا‘۔ 
دا لائن سٹی میں اس بات کا  خاص خیال رکھا جائے گا کہ یہاں کےباشندے یومیہ ضروریات کے حوالے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے آجاسکیں۔ دفاتر، سکولوں، پارکوں اور گھروں تک پانچ منٹ کے اندر رسائی ہوجائے۔ 
نیوم ٹیم کے ساتھ ایسے ماہرین تعمیرات اور دنیا کے ایسے مشہور انجینیئر کام کررہے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں رہنے والے ناقابل فراموش لمحے گزاریں گے اور یہاں زندگی کا ایسا تجربہ کریں گے جو غیرمعمولی ہوگا۔  

شیئر: