Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان میں شریفہ کی کامیاب کاشت، سالانہ پیداوار 42 ٹن سے متجاوز

شریفہ کی کاشت زیادہ تر جازان کے پہاڑی اضلاع میں کی جاتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن اپنی قدرتی خصوصیات، ماحولیاتی اور موسمی تنوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مملکت کے نمایاں زرعی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے۔
 قدرتی وسائل، متنوع ماحول اور سازگار موسم کی وجہ سے مختلف قسم کی فصلوں کی کاشت کامیابی سے ہو رہی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ریجن کے متنوع زرعی ماحول اور زرخیز مٹی میں شریفہ یا کسٹرڈ ایپل کی کاشت کامیابی سے کی جا رہی ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کی ریجنل برانچ کے مطابق ریجن میں اس کے درختوں کی تعداد 4200 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سے وابستہ کسانوں کی تعداد 110 کے قریب ہے۔ شریفہ کی سالانہ پیداوار 42 ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ اعداد وشمار اس درخت کی مقامی ماحول سے مطابقت، زرعی پیداوار میں تنوع اور کسانوں کی معاشی آمدنی میں اصافے کے لیے اس کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

شریفہ کا پھل غذائیت سے بھرپور ہے جو نہایت مفید مانا جاتا ہے۔ یہ میٹھے ذائقے اور کریمی ساخت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ان خصوصیات نے مقامی منڈیوں میں اس کی طلب میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور اس کی کاشت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
شریفہ کی کاشت زیادہ تر جازان کے پہاڑی اضلاع میں کی جاتی ہے جہاں متعدل موسم، زرخیز زمین اور موزوں ماحول اس فصل کی افزائش کے لیے سازگار ہیں۔
کسان جدید زرعی طریقوں اور بہتر آبپاشی کے نظام کو اپنا رہے ہیں جس سے پیداوار کے معیار میں بھی بہتری ہوئی ہے۔

قومی مرکز برائے تحقیق و ترقی (استدامہ) کی جازان برانچ کی جانب سے شریفہ کی فصل کے لیے حقیقی اور عملی پروگرام جاری ہے جن کا مقصد اقسام میں بہتری، پیداوار میں اضافہ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کسانوں تک منتقل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رہنمائی اور آگاہی کی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

 شریفہ کی کاشت منافع بخش ہے کیونکہ اس کے پھلوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسے جوس، مٹھائیوں اور فوڈ انڈسٹری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 
یہ اقدامات وژن 2030 کے اہداف کے تحت کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد زرعی شعبے کی ترقی، قومی معیشت میں اس کے کردار میں اضافہ اور کسانوں کو بااختیار بنانا ہے۔

 

شیئر: